جہلم شہر کی سماجی، رفاہی، فلاحی اور شہری تنظیموں کے عمائدین نے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025، آئین پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں مریم نواز شریف سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ میونسپل کمیٹی جہلم کو فوری طور پر میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا جائے۔
عمائدین کا کہنا ہے کہ ضلعی ہیڈکوارٹر جہلم کے اردگرد شہری آبادی کا حقیقی حجم تیز رفتاری سے بڑھ چکا ہے جبکہ متصل اربن علاقوں کالا گجراں، بلال ٹاؤن، چونترہ اور کھرالہ کو بنیادی شہری سہولیات سے نظرانداز کرنا صریحاً قانونی اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بل 2025 کے تحت حد بندی اور درجہ بندی محض انتظامی صوابدید نہیں بلکہ ایک لازمی قانونی فریضہ ہے، جس میں لفظ “shall” کا استعمال حکومت اور لوکل گورنمنٹ کمیشن کو زمینی حقائق کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند بناتا ہے۔
شہری عمائدین کے مطابق جب مربوط اربن آبادی دو لاکھ سے تجاوز کر جائے تو میونسپل کارپوریشن کا نوٹیفکیشن اختیار نہیں بلکہ قانوناً ناگزیر تقاضا بن جاتا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں ایم سی جہلم کے دائرہ کار اور وسائل آبادی کے حقیقی دباؤ سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کے باعث صفائی، سیوریج، ٹریفک، سڑکوں، پارکس اور شہری منصوبہ بندی جیسے بنیادی امور متاثر ہو رہے ہیں۔
آخر میں شہری نمائندوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ایم سی جہلم کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دے کر انتظامی اختیارات، وسائل اور منصوبہ بندی کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے تاکہ شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کے بجائے واضح کمی لائی جا سکے اور جہلم کو جدید شہری تقاضوں کے مطابق ترقی دی جا سکے۔
