جہلم شہر اور اس کے گردونواح میں بجلی اور گیس کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بڑھتی ہوئی بندشوں نے نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ عوامی بے چینی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
متاثرہ علاقے اور صورتحال
رپورٹس کے مطابق محمودہ آباد، چشتیاں محلہ، ضلع کچہری، پروفیسر کالونی ڈنگی پلی اور رجی پور سمیت متعدد علاقوں میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی اور گیس کی فراہمی کے حوالے سے کوئی واضح شیڈول موجود نہیں، جس کے باعث لوگوں کو اپنی روزمرہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی میں دشواری کا سامنا ہے۔
مزید برآں، اچانک اور بار بار بندشیں شہریوں کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بن رہی ہیں، کیونکہ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سہولیات کب بحال ہوں گی۔
گھریلو اور کاروباری زندگی پر اثرات
گیس کی قلت اور کم پریشر کے باعث صبح اور شام کے اوقات میں کھانا پکانا مشکل ہو گیا ہے، جس سے گھریلو امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اسی طرح بجلی کی بار بار بندش نے گھروں میں معمول کے کاموں کو بھی دشوار بنا دیا ہے۔
جہلم میں چار روزہ پولیو مہم کی تیاریاں مکمل، 2 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر
دوسری جانب تجارتی اور صنعتی سرگرمیاں بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر چھوٹے کاروباری افراد کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، کیونکہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث کاروبار کا تسلسل برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
تعلیمی سرگرمیوں پر منفی اثرات
لوڈشیڈنگ کا ایک اہم اثر طلبہ و طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ بجلی کی غیر موجودگی میں نہ صرف آن لائن تعلیم متاثر ہو رہی ہے بلکہ گھروں میں مطالعہ کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، جس سے تعلیمی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عوامی مطالبات اور حکومتی توجہ کی ضرورت
شہریوں نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر پانی و بجلی اور وزیر پٹرولیم سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور بجلی و گیس کی فراہمی کیلئے واضح اور قابلِ عمل شیڈول جاری کیا جائے۔
مجموعی صورتحال
جہلم میں جاری لوڈشیڈنگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ توانائی کے شعبے میں درپیش مسائل بدستور موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس بحران کے حل کیلئے نہ صرف فوری اقدامات بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے تاکہ شہریوں کو مستقل بنیادوں پر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
