جہلم: پولیس خدمت مرکز میں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے شہریوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے لائسنس بنوانا ایک مشکل مرحلہ بن گیا ہے۔
گزشتہ کئی روز سے پولیس خدمت مرکز کے داخلی دروازے اور اندرونی حصوں میں امیدواروں کا شدید رش پایا جا رہا ہے جبکہ محدود کاؤنٹرز ہونے کی وجہ سے شہریوں کو گھنٹوں بلکہ پورا دن انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر پولیس کی جانب سے سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں پر ہزاروں روپے کے چالان اور مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انہی کارروائیوں سے بچنے کے لیے شہری بڑی تعداد میں موٹر سائیکل اور کار کے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے پولیس خدمت مرکز کا رخ کر رہے ہیں۔
رش کی صورتحال یہ ہے کہ شہری علی الصبح پولیس خدمت مرکز پہنچ کر لائنوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود کئی افراد کو شام تک اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس خدمت مرکز میں لائسنس کے لیے کاؤنٹرز کی تعداد ناکافی ہے، جس کی وجہ سے امیدواروں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پولیس خدمت مرکز کے باہر لمبی قطاریں معمول بن چکی ہیں، جن میں بزرگ شہری، نوجوان اور خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔ شہریوں کے مطابق وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے دیگر کام بھی متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ بعض افراد کئی دنوں تک چکر لگانے پر مجبور ہیں۔
ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کا طریقہ کار اور فیس شیڈول جاری
متاثرہ شہریوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر عثمان انور سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی سہولت کے پیشِ نظر پٹرولنگ پولیس اور ضلع بھر کے تمام تھانوں کو بھی ڈرائیونگ لائسنس بنانے کے اختیارات دیے جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اختیارات نچلی سطح پر فراہم کر دیے جائیں تو پولیس خدمت مرکز پر بوجھ کم ہو سکتا ہے اور امیدوار بغیر وقت ضائع کیے آسانی سے اپنا لائسنس حاصل کر سکیں گے۔
شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پنجاب پولیس اور اعلیٰ حکام اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں گے اور پولیس خدمت مراکز میں سہولیات بڑھانے، کاؤنٹرز کی تعداد میں اضافہ کرنے یا متبادل انتظامات کر کے عوام کو ریلیف فراہم کریں گے، تاکہ قانون پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بلا وجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
