بلال اظہر کیانی نے خیبر پختونخوا میں مختلف شاہراہوں اور راستوں کی بندش کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 15 کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کا حق آئین میں واضح طور پر درج ہے اور کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے عوام کو مشکلات میں ڈالنا غیر آئینی عمل ہے۔
وزیر مملکت نے اپنے بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کے عوام سے خدمت کے نام پر ووٹ لیا تھا، لیکن موجودہ صورتحال میں وہی جماعت اپنے صوبے کے شہریوں کو مشکلات سے دوچار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سڑکوں کی بندش سے عام شہری، مریض، طلبہ اور کاروباری افراد شدید متاثر ہو رہے ہیں، جو کسی بھی طور عوامی مفاد میں نہیں۔
بلال اظہر کیانی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق پارٹی قیادت اور ان کے ذاتی معالجین کو اعتماد میں لیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود احتجاج اور راستوں کی بندش کا سلسلہ جاری رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر صوبے کے عوام کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ سیاسی مقاصد کے لیے اپنے ہی صوبے کے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کرنا ایک مجرمانہ اقدام کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، مگر ایسا احتجاج جو عوام کی زندگی مفلوج کر دے، قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
عمران خان کی صحت کے مسئلے کے حل تک دھرنا جاری رکھا جائے گا:علی امین گنڈا پور
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے مطالبے پر صوابی انٹرچینج پر احتجاج جاری ہے، جس کے باعث پشاور-اسلام آباد موٹروے (ایم ون) ریسٹ ایریا کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک معطل ہے۔ اس صورتحال کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور متبادل راستوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی میں کمی کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ عوامی مشکلات کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے اور آئینی تقاضوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
