پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اور باصلاحیت اداکارہ صبا حمید نے انکشاف کیا ہے کہ ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران انہوں نے اداکارہ حبا بخاری کو منظر کی ضرورت کے تحت حقیقت میں تھپڑ مارا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ہدایتکار کی ہدایت پر کیا گیا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اس پر معذرت بھی کی۔
پروگرام میں دلچسپ گفتگو
حال ہی میں صبا حمید نے ہنسنا منع ہے میں شرکت کی، جہاں میزبان تابش ہاشمی نے ان کے مختلف ڈراموں کے مشہور مناظر پر گفتگو کی۔ دورانِ پروگرام ایک ایسے سین کا ذکر آیا جس نے ناظرین پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔
اسی گفتگو کے دوران صبا حمید نے بتایا کہ وہ عام طور پر شوٹنگ کے دوران ’چیٹنگ‘ (یعنی کیمرہ اینگل اور اداکاری کی تکنیک کے ذریعے حقیقت کا تاثر دینا) میں مہارت رکھتی ہیں۔ تاہم اس خاص منظر میں ہدایتکار نے اصرار کیا کہ تھپڑ والا سین زیادہ حقیقی انداز میں فلمایا جائے تاکہ جذبات کی شدت واضح ہو سکے۔
ڈرامہ ’فتور‘ کا یادگار منظر
یہ واقعہ فتور کے سیٹ پر پیش آیا، جسے جیو انٹرٹینمنٹ پر نشر کیا گیا تھا۔ اس ڈرامے میں صبا حمید نے ایک ماں کا کردار ادا کیا تھا، جبکہ حبا بخاری نے ان کی بیٹی کا کردار نبھایا تھا۔
مجھے آج تک محبت کی تعریف سمجھ میں نہیں آئی، صبا حمید
صبا حمید کے مطابق، ہدایتکار کی ہدایت پر انہوں نے سین کو حقیقت کے قریب رکھنے کے لیے واقعی تھپڑ مارا، جو قدرے زور سے لگ گیا۔ بعد ازاں انہوں نے حبا بخاری سے معافی بھی مانگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور اداکار بعض اوقات منظر کی شدت اور حقیقت پسندی کو برقرار رکھنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
حقیقت پسندی اور پیشہ ورانہ تقاضے
ڈرامہ انڈسٹری میں بعض مناظر کو مؤثر بنانے کے لیے اداکاروں کو جذباتی اور جسمانی طور پر چیلنجنگ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ عموماً کیمرہ تکنیک اور ایڈیٹنگ کے ذریعے ایسے مناظر کو محفوظ انداز میں فلمایا جاتا ہے، تاہم کبھی کبھار ہدایتکار حقیقی تاثر کو ترجیح دیتے ہیں۔
صبا حمید کا یہ انکشاف شوبز حلقوں اور ناظرین کے لیے دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے، کیونکہ اس سے پردے کے پیچھے ہونے والی محنت اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا اندازہ ہوتا ہے۔
