راجپال یادو کو 9 کروڑ بھارتی روپے کے چیک باؤنس کیس میں دہلی ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت مل گئی ہے۔ اداکار، جو دہلی کی تہاڑ جیل میں قید تھے، نے عدالت میں درخواست دی تھی اور سماعت کے دوران عدالت نے انہیں ضمانت دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ ڈیڑھ کروڑ روپے دوپہر 3 بجے تک جمع کرائیں۔
مدعی کمپنی ایم/ایس مرلی پروجیکٹس کے وکیل نے تصدیق کی کہ اداکار نے باؤنس ہونے والے چیک کی رقم کمپنی کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرا دی ہے، جس کے بعد عدالت نے ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے حکم دیا کہ راجپال یادو 18 مارچ تک جیل سے باہر رہیں گے اور اس دوران باقی واجب الادا رقم ادا کریں گے۔
یہ کیس 2010 میں شروع ہوا جب راجپال یادو نے اپنی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ‘آتا پتا لاپتا’ کے لیے مرلی پروجیکٹس سے قرض لیا تھا، جسے ان کی اہلیہ نے پروڈیوس کیا۔ فلم کی ناکامی کے بعد مالی مشکلات بڑھیں اور واجبات 9 کروڑ روپے تک جا پہنچے۔
2018 میں دہلی کی عدالت نے اداکار اور ان کی اہلیہ کو قصوروار قرار دیا اور راجپال یادو کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی، جو اگلے سال برقرار رہی۔ جون 2024 میں ہائی کورٹ نے سزا عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے اداکار کو تنازع کے حل کے لیے “سنجیدہ اور مخلصانہ اقدامات” کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ورون دھون نے اداکاری میں راجپال یادو کو اپنا استاد مان لیا
رواں ماہ عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ اداکار بار بار ادائیگی کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد انہیں 5 فروری کو خود سپردگی کے لیے تہاڑ جیل میں پیش ہونا پڑا۔ اب ضمانت ملنے کے بعد راجپال یادو قید سے آزاد ہو گئے ہیں اور قانونی تقاضوں کے مطابق رقم کی ادائیگی مکمل کریں گے۔
