تنقید سے سیکھنے کا سفر: ندا یاسر کا متوازن اور حقیقت پسندانہ مؤقف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

مشہور اداکارہ اور مارننگ شو کی میزبان ندا یاسر نے تنقید کے حوالے سے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔

latest urdu news

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان ندا یاسر کا کہنا ہے کہ وہ خود پر ہونے والی تنقید کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کرتیں بلکہ اسے سیکھنے کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق ہر تنقید کو رد کرنا دانش مندی نہیں، بلکہ اس میں سے مثبت پہلو تلاش کرنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

مارننگ شو اور ندا یاسر کا طویل تجربہ

ندا یاسر گزشتہ کئی برسوں سے نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو کی میزبانی کر رہی ہیں۔ اس دوران وہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کو اپنے پروگرام میں مدعو کرتی رہی ہیں۔ طویل عرصے تک لائیو شو کی میزبانی کرنا ایک مشکل کام سمجھا جاتا ہے، جہاں میزبان کے ہر جملے اور رویے کو ناظرین اور سوشل میڈیا صارفین باریک بینی سے پرکھتے ہیں۔

تنقید سے نمٹنے کا ندا یاسر کا طریقہ

حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران ندا یاسر سے سوال کیا گیا کہ وہ تنقید کرنے والوں کو کیسے نظرانداز کرتی ہیں۔ اس پر انہوں نے واضح کیا کہ وہ تنقید کو یکسر نظرانداز نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تنقید کرنے والوں کو غور سے دیکھتی اور سنتی ہیں۔ اگر کوئی بات غیر ضروری یا محض منفی سوچ پر مبنی ہو تو وہ اسے چھوڑ دیتی ہیں، لیکن جو بات بامعنی اور اصلاح کی نیت سے کی گئی ہو، اس سے سیکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔

مثبت پہلو تلاش کرنے کی سوچ

ندا یاسر کے مطابق تنقید میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ مثبت پہلو موجود ہوتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ اسے کھلے دل سے سنا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک عوامی شخصیت ہونے کے ناطے خود احتسابی بہت ضروری ہے، کیونکہ یہی عمل انسان کو بہتر بناتا ہے۔

سوشل میڈیا تنقید اور حالیہ تنازع

واضح رہے کہ ندا یاسر سوشل میڈیا پر اکثر تنقید کی زد میں رہتی ہیں۔ حال ہی میں ان کے مارننگ شو میں ڈیلیوری بوائے سے متعلق ایک بیان سامنے آیا تھا، جس پر صارفین کی جانب سے خاصی تنقید کی گئی۔ بعد ازاں ندا یاسر نے اس معاملے پر وضاحت پیش کی اور معذرت بھی کی، جسے کئی حلقوں نے مثبت قدم قرار دیا۔

ندا یاسر کا مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تنقید سے فرار کے بجائے اسے سمجھنا اور اس سے سیکھنا ایک بالغ اور متوازن رویہ ہے۔ ان کی یہ سوچ نہ صرف شوبز شخصیات بلکہ عام افراد کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter