پاکستان کی معروف اداکارہ مہوش حیات نے حال ہی میں مشکلات اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے اپنے طریقے کھل کر بیان کیے۔ 38 سالہ مہوش حیات کا کہنا ہے کہ جب بھی زندگی میں کوئی مشکل یا چیلنج آتا ہے تو وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتی ہیں۔ اداکارہ نے وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ سے بات کرنا اور اس پر مکمل بھروسہ رکھنا انسان کے لیے ذہنی وضاحت، باطنی طاقت اور دل کے سکون کا سبب بنتا ہے۔
مہوش حیات کے مطابق، مشکل حالات میں اللہ سے رجوع کرنا نہ صرف فوری سکون فراہم کرتا ہے بلکہ انسان میں صبر اور اعتماد پیدا کرتا ہے، جس سے وہ چیلنجز کا مقابلہ بااعتماد انداز میں کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ روحانی عمل انسان کی جذباتی مضبوطی اور شخصیت کی نشوونما میں مدد دیتا ہے، اور زندگی کے مختلف مراحل میں توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ یہ طریقہ کار روزمرہ زندگی میں استقامت اور سکون برقرار رکھنے کے لیے بہت مؤثر ہے۔ مہوش حیات نے زور دیا کہ ایمان کے ساتھ کی گئی دعا اور اللہ پر بھروسہ انسان کو مشکلات میں نہ صرف ہمت دیتا ہے بلکہ اسے اپنی روحانی اور اخلاقی طاقت کا احساس بھی دلاتا ہے۔
میرا کیرئیر اتنا لمبا نہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں: مہوش حیات
مہوش حیات کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا یہ نقطہ نظر دوسروں کے لیے بھی ترغیب کا باعث بن سکتا ہے تاکہ وہ روحانیت اور اعلیٰ طاقت پر یقین رکھتے ہوئے زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ انسان کی روحانی ترقی اور باطنی سکون کے لیے اللہ سے براہِ راست تعلق قائم کرنا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
اداکارہ نے اپنے خیالات کا اختتام اس بات پر کیا کہ زندگی میں مشکلات آئیں گی، مگر اللہ پر بھروسہ اور اس سے دعا کرنا ہر شخص کو نہ صرف ذہنی سکون بلکہ حوصلہ اور باطنی طاقت بھی فراہم کرتا ہے، جس سے وہ کسی بھی مشکل کا مقابلہ باوقار انداز میں کر سکتا ہے۔
یہ بیان مہوش حیات کی شخصیت اور ان کے روحانی رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی رہنمائی کا باعث بنتا ہے۔
