پاکستانی اداکار گوہر رشید نے حالیہ ٹی وی پروگرام میں اپنی ازدواجی زندگی کے حوالے سے کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی کے بعد انسانوں کے رویّوں میں فطری طور پر تبدیلی آجاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ اور کبریٰ خان شادی سے قبل قریبی دوست تھے اور ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے تھے، لیکن نکاح کے بعد زندگی کا انداز اور ذمہ داریاں مختلف ہو جاتی ہیں۔
یہ جوڑا گزشتہ برس فروری 2025 میں مکہ مکرمہ میں سادگی سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوا تھا۔ نکاح کی تقریب میں قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے شرکت کی، جبکہ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں اور کئی روز تک موضوعِ بحث بنی رہیں۔ بعد ازاں شوبز انڈسٹری میں مقدس مقامات پر نکاح کرنے کا رجحان بھی نمایاں ہوا۔
شادی کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد دونوں فنکاروں نے نجی ٹی وی کی رمضان ٹرانسمیشن محفلِ رمضان میں شرکت کی، جہاں میزبانوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے اپنی نجی زندگی کے دلچسپ پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
گوہر رشید نے مسکراتے ہوئے کہا کہ شادی کے بعد بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ ایک نئی شخصیت کے ساتھ زندگی کا آغاز کر رہے ہوں۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی منفی نہیں بلکہ تعلق کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتی ہے، کیونکہ ہر روز شریکِ حیات کے بارے میں نئی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔ انہوں نے نکاح کو ایک خوبصورت بندھن قرار دیا جس میں وقت کے ساتھ سمجھ بوجھ اور ہم آہنگی بڑھتی ہے۔
کبریٰ خان نے شادی کی پیشکش ٹھکرادی تھی، مگر میں نے ہار نہیں مانی: گوہر رشید
اس موقع پر کبریٰ خان نے بھی دلچسپ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شروع میں ان کے درمیان اس بات پر ہلکی پھلکی بحث ہوتی تھی کہ آیا وہ بدل گئی ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق گوہر اکثر کہتے تھے کہ وہ شادی کے بعد “روایتی بیوی” بن گئی ہیں، جس پر وہ ہنستے ہوئے جواب دیتی تھیں کہ اب وہ واقعی ان کی اہلیہ ہیں، اس لیے ذمہ داری کا احساس بھی بڑھ گیا ہے۔
مکہ مکرمہ میں نکاح سے متعلق کبریٰ خان نے بتایا کہ انہوں نے ابتدا ہی میں خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کا نکاح اسی مقدس شہر میں ہو۔ گوہر رشید بھی اس خیال سے متفق تھے، چنانچہ دونوں نے باہمی رضامندی سے یہ فیصلہ کیا۔ ان کے بقول اس روحانی ماحول میں زندگی کے نئے سفر کا آغاز کرنا ان کے لیے یادگار اور بابرکت لمحہ تھا۔
