بھارت کے معروف گلوکار اور ریپر Badshah نے اپنے حالیہ متنازع گانے پر عوامی ردِعمل کے بعد باقاعدہ معافی مانگ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بادشاہ نے ہریانوی زبان میں ایک گانا ’ٹٹیری‘ ریلیز کیا تھا، جس کے بول اور ویڈیو کی فلم بندی پر بعض حلقوں نے شدید اعتراضات اٹھائے۔ خاص طور پر ریاست Haryana کے شہر Panchkula کے رہائشیوں کی جانب سے گانے کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا گیا۔
شکایت کنندگان کا مؤقف تھا کہ گانے کے بعض الفاظ اور مناظر مقامی ثقافت اور معاشرتی اقدار کے خلاف ہیں، جس سے شہریوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔
عوامی ردِعمل کے بعد معافی
بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے بعد بادشاہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ اس پیغام میں انہوں نے تسلیم کیا کہ گانے کی ریلیز کے بعد کچھ لوگوں، خاص طور پر ہریانہ کے رہنے والوں کو تکلیف پہنچی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ انہیں ذاتی طور پر جانتے ہیں وہ بخوبی واقف ہیں کہ ان کا تعلق ہریانہ سے ہے اور ان کی زندگی کے بہت سے پہلو اسی خطے کی ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ان کا رہن سہن، کھانے پینے کی عادات اور زبان سب ہریانہ کی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔
بھارتی گلوکار بادشاہ تنازع میں، ‘تاتیری’ گانے پر مقدمہ درج
گلوکار نے مزید کہا کہ وہ کبھی بھی کسی بچے یا خاتون کے بارے میں غیر مناسب یا بے ہودہ بات کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
گانا تمام پلیٹ فارمز سے ہٹانے کا اعلان
اپنے بیان میں بادشاہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ہریانہ کی زبان اور ثقافت کو موسیقی کے ذریعے وسیع سطح پر متعارف کرایا جائے۔ تاہم اگر ان کے گانے کی وجہ سے کسی کو دکھ پہنچا ہے تو وہ اس پر دل سے معذرت خواہ ہیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہریانہ کے لوگ انہیں اپنا بیٹا سمجھتے ہوئے معاف کر دیں گے۔
اس کے ساتھ ہی بادشاہ نے اعلان کیا کہ وہ متنازع گانے ’ٹٹیری‘ کو تمام ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا رہے ہیں تاکہ اس معاملے کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر عوامی ردِعمل تیزی سے سامنے آتا ہے، جس کے باعث فنکاروں اور تخلیق کاروں کو اپنی تخلیقات کے سماجی اثرات پر پہلے سے زیادہ توجہ دینا پڑ رہی ہے۔
