نامور ڈیزائنر نیتا نے انکشاف کیا ہے کہ 2008 کی فلم جودھا اکبر کے سیٹ پر اداکارہ ایشوریا رائے کے تقریباً 400 کلو وزنی زیورات کی حفاظت کے لیے پانچ سیکیورٹی گارڈ تعینات تھے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نیتا نے فلم کے دوران پیش آنے والے چند دلچسپ اور حیران کن واقعات شیئر کیے۔ انہوں نے بتایا کہ فلم کے ملبوسات غیر معمولی پیمانے پر تیار کیے گئے اور تقریبا 400 کلو زیورات کی تیاری میں 600 سے زائد دن صرف ہوئے۔
62 سالہ ہدایتکار اشوتوش گواریکر کی اس تاریخی فلم میں ایشوریا رائے کے ساتھ مرکزی کردار ریتھک روشن نے نبھایا تھا۔ نیتا کے مطابق زیورات نہ صرف وزنی بلکہ بے حد قیمتی بھی تھے، جس کی وجہ سے ہر زیور کا مکمل ریکارڈ رکھنے کے لیے پانچ سیکیورٹی گارڈ سیٹ پر موجود تھے۔
ڈیزائنر نے ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیا کہ فلم کی عکس بندی کے دوران ایک موقع پر ایک چھوٹا موتی گر گیا، جس کے سبب سیٹ پر ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور سب کو لگا کہ کوئی قیمتی زیور گم ہوگیا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ صرف ایک چھوٹا موتی گر گیا تھا، جس کے بعد سب نے سکون کا سانس لیا۔
ہراسانی کا الزام عورت کے لباس پر نہیں ڈالا جا سکتا، ایشوریا رائے
نیتا چار بار نیشنل ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں اور بھارتی سنیما کی نمایاں کاسٹیوم ڈیزائنر کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ فلمی زیورات اور ملبوسات نہ صرف تاریخی حقائق کے مطابق بنائے گئے تھے بلکہ سیٹ کی حفاظت اور انتظامات بھی بے حد محتاط طریقے سے کیے گئے تھے۔
یہ انکشاف فلم کے شائقین کے لیے ایک دلچسپ پہلو ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ تاریخی فلموں میں صرف اداکاری اور ہدایتکاری ہی نہیں بلکہ ملبوسات اور حفاظت بھی ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
