معروف پاکستانی فلم اسٹار میرا کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا اور شوبز حلقوں میں مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں، جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں امریکا کے شہر نیویارک میں واقع مونٹیفور میڈیکل سینٹر کے نفسیاتی وارڈ میں داخل کیا گیا ہے۔ تاہم اس معاملے پر تاحال میرا، ان کے اہلِ خانہ یا انتظامی ٹیم کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق میرا اپنی آئندہ فلم کی شوٹنگ کے دوران شدید ذہنی دباؤ اور تھکن کا شکار ہو گئیں، جس کے بعد انہیں طبی معائنے اور نگہداشت کی ضرورت پیش آئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ فلم کی شوٹنگ نہایت مشکل مراحل پر مشتمل تھی اور میرا کا کردار ذہنی طور پر خاصا پیچیدہ اور چیلنجنگ نوعیت کا ہے، جس نے ان پر اضافی دباؤ ڈالا۔ اسی تناظر میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ انہیں احتیاطی طور پر طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
شوبز سے وابستہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ کسی بھی فنکار کے لیے نفسیاتی طور پر مشکل کردار ادا کرنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب شوٹنگ کا ماحول سخت اور مسلسل دباؤ والا ہو۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میرا کے نفسیاتی وارڈ میں داخل ہونے کی خبروں کو حتمی حقیقت قرار دینا قبل از وقت ہے، کیونکہ اس کی تصدیق کسی مستند ذریعے سے نہیں ہو سکی۔
اداکارہ میرا کی نئی ویڈیو نے مداحوں کو تشویش میں ڈال دیا
میرا کی آنے والی فلم میں پاکستان کے معروف اداکار شان شاہد اور اداکارہ سونیا حسین بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ فلم تھرلر صنف سے تعلق رکھتی ہے اور ذرائع کے مطابق اس کی کہانی نفسیاتی پہلوؤں کے گرد گھومتی ہے۔ اسی وجہ سے میرا کا کردار بھی غیر معمولی نوعیت کا بتایا جا رہا ہے، جس کے لیے خاصی ذہنی اور جذباتی تیاری درکار تھی۔
فلم کی دیگر تفصیلات، مکمل کاسٹ اور ریلیز کے شیڈول کے بارے میں ابھی تک حتمی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ پروڈکشن سے وابستہ حلقے اس معاملے پر خاموش ہیں، جس سے افواہوں کو مزید تقویت مل رہی ہے۔
واضح رہے کہ میرا کو آخری بار فلم “باجی” میں دیکھا گیا تھا، جسے شائقین اور ناقدین کی جانب سے مثبت ردعمل ملا۔ اس فلم کے بعد میرا کی ایک بار پھر بڑے پردے پر مضبوط واپسی کی توقع کی جا رہی تھی۔ شائقین کی بڑی تعداد اس نئی فلم کا شدت سے انتظار کر رہی ہے اور ساتھ ہی اداکارہ کی صحت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آتا، اس قسم کی خبروں کو احتیاط کے ساتھ لینا چاہیے اور فنکاروں کی نجی زندگی اور صحت کے معاملات میں غیر ضروری قیاس آرائیوں سے گریز کرنا بہتر ہے۔
