تقریب میں علماء، پولیس افسران اور اہلکاروں کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات کو معاشرتی اصلاح کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا۔
پولیس لائن گجرات میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں علماء کرام، پولیس افسران اور جوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ کی تعلیمات، اخلاقِ حسنہ اور عدل و انصاف کے اصولوں کو معاشرے کی بہتری کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔
سیرتِ نبوی ﷺ پر خصوصی خطاب
کانفرنس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے مولانا سوبان عطاری نے حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے انسانیت، انصاف، برداشت اور بھائی چارے کا جو عملی نمونہ پیش کیا، وہ آج بھی ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر معاشرہ سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات کو اپنائے تو بدامنی، نفرت اور انتشار جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے امن، رواداری اور عدل کی جو بنیاد رکھی، وہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے، اور ان اصولوں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پولیس افسران کی شرکت اور خیالات
تقریب میں پولیس افسران اور اہلکاروں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر ظفر اقبال نے کانفرنس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیرتِ نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہو کر ہی ایک پرامن اور مثالی معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس فورس اپنے فرائض کی انجام دہی میں انصاف، صبر اور انسان دوستی جیسے اصولوں کو مقدم رکھے تو عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
مریم نواز آج یونیورسٹی آف گجرات پہنچیں گی، تین ہزار لیپ ٹاپ اور وظائف کی تقسیم
معاشرتی اصلاح میں سیرت النبی ﷺ کی اہمیت
ماہرین کے مطابق سیرتِ نبوی ﷺ صرف مذہبی نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی رہنمائی کا بھی جامع ذریعہ ہے۔ اس میں عدل، مساوات، خدمتِ خلق اور انسانی حقوق کے وہ اصول شامل ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایسی تقاریب پولیس اور عوام کے درمیان مثبت تعلقات کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔
دعا اور اختتامی لمحات
کانفرنس کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، امن و استحکام اور پولیس فورس کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں معاشرتی بہتری اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی، تاکہ ایک محفوظ، پرامن اور بااخلاق معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
