لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت نے پنجاب اسمبلی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے مقدمے میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی۔ یہ درخواست پرویز الہیٰ کے وکیل کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں بتایا گیا کہ سابق وزیراعلیٰ کی طبیعت ناساز ہے اور ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے۔
عدالت میں سماعت اور دلائل
اینٹی کرپشن عدالت کے ڈیوٹی جج نے کیس کی سماعت کی، جس دوران پرویز الہیٰ کے وکیل نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک روزہ حاضری معافی منظور کرنا مناسب ہوگا تاکہ سابق وزیراعلیٰ اپنی صحت کا خیال رکھ سکیں۔ وکیل کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ایک روزہ حاضری معافی منظور کر دی۔ اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ کے سابق پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
شریک ملزمان اور سماعت کی تاریخ
عدالت نے شریک ملزم مختار رانجھا کی بریت کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 18 فروری تک ملتوی کر دی۔ اینٹی کرپشن حکام کی جانب سے چوہدری پرویز الہیٰ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مقدمے میں شامل تمام شواہد اور گواہیاں عدالت میں زیر غور آئیں گی تاکہ قانونی کارروائی مکمل ہو سکے۔
مقدمے کی اہمیت
یہ مقدمہ پنجاب اسمبلی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ہے، جس میں کئی اعلیٰ عہدے دار شامل ہیں۔ عدالت کی کارروائی اور سابق وزرائے اعلیٰ کی پیشی نہ صرف قانونی شفافیت کے لیے اہم ہے بلکہ عوامی سطح پر انصاف کے قیام اور احتساب کے عمل کو بھی مستحکم کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، قانونی نظام میں اس طرح کے مقدمات کی بروقت سماعت شفافیت اور حکومت کی قانونی ذمہ داریوں کو واضح کرتی ہے۔
آئندہ کی کارروائی
عدالت کی طرف سے سماعت ملتوی ہونے کے بعد 18 فروری کو کیس دوبارہ سنے جانے کا امکان ہے، جس میں شریک ملزمان کی بریت اور دیگر قانونی دلائل زیر غور آئیں گے۔ اس مقدمے کی پیش رفت پاکستان کے سیاسی اور قانونی حلقوں میں بڑی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
