26 جنوری کو کراچی کے رہائشی محمد شفیق احمد صدیقی نے کھلی کچہری میں ڈی پی او گجرات سے درخواست دی کہ تھانہ سٹی سرائے عالمگیر کے اہلکار، بشمول ASI عثمان اللہ، نے انہیں حراست میں لے کر ناجائز ریکوری کی۔
واقعے کے فوری نوٹس کے بعد ڈی پی او گجرات نے ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور ہدایت کی کہ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات 24 گھنٹوں میں مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔
انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق درخواست دہندہ کے الزامات درست ثابت ہوئے۔ رپورٹ کے بعد ڈی پی او گجرات کی ہدایت پر پولیس اہلکار عثمان اللہ ASI، حسنین طاہر، سہیل شہزاد اور سفیر کے خلاف مقدمہ نمبر 25/26 مورخہ 27 جنوری 2026 کے تحت دفعات 384/344 ت پ 155-C پولیس آرڈر 2002 کے تحت تھانہ سٹی سرائے عالمگیر میں درج کر لیا گیا۔
ملزمان میں سے ASI عثمان اللہ، حسنین طاہر، سہیل شہزاد اور سفیر گرفتاری کے بعد جسمانی ریمانڈ پر ہیں جبکہ نوید احمد، ظہیر گجر اور عرفان راجہ نے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔
گجرات پولیس کی پتنگ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن جاری، تین ملزمان گرفتار
ڈی پی او گجرات نے ایس ایچ او تھانہ سٹی سرائے عالمگیر کو ناقص نگرانی اور سپر ویژن پر معطل کر دیا ہے اور اس کے خلاف انضباطی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
ترجمان گجرات پولیس کے مطابق مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور شفاف انداز میں کارروائی مکمل کی جائے گی تاکہ قانون کے مطابق ذمہ داران کے خلاف مناسب کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
یہ اقدام گجرات پولیس کی اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ عوامی حقوق کے تحفظ اور پولیس اہلکاروں کی کارکردگی میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سختی سے اقدامات کر رہی ہے۔
