کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پاکستان کسٹمز نے دبئی سے آنے والی ایک خاتون سے چھ کلوگرام چاندی کے بسکٹ برآمد کیے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ضبط شدہ چاندی کی مالیت تقریباً 70 لاکھ روپے تخمینہ جاتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غیر قانونی کاروباری سرگرمی کے تحت سمگل کی جانے والی قیمتی اشیا میں شامل ہے۔
کارروائی اور قانونی اقدامات
سول ایوی ایشن کے حکام کے مطابق خاتون کے خلاف متعلقہ دفاتر میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ چاندی کے بسکٹ کس مقصد کے لیے لائے جا رہے تھے اور آیا اس کے پیچھے کوئی وسیع سمگلنگ نیٹ ورک موجود ہے یا نہیں۔
پاکستان کسٹمز کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر غیر قانونی اشیاء کی درآمد کو روکنے کے لیے سخت نگرانی اور چیکنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے اقدامات ملک میں غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف قومی معیشت بلکہ قانونی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔
کراچی ائیرپورٹ پر کارروائی: دبئی جانے والی 2 خواتین گرفتار
بین الاقوامی سفر میں چیکنگ کی اہمیت
ایئرپورٹ پر مسافروں کی بیگج اور سامان کی جانچ نہ صرف قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری بھی یقینی بنتی ہے۔ چھ کلو چاندی جیسے قیمتی دھاتیں اگر غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہو جائیں تو اس کا اثر ملکی مارکیٹ اور ٹیکس نیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔
اس کیس کے بعد کسٹمز حکام نے مزید اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کو بروقت روکا جا سکے۔ مسافروں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بین الاقوامی سفر کے دوران قیمتی اشیاء کی نقل و حمل کے قوانین کی مکمل پاسداری کریں تاکہ قانونی پیچیدگیوں اور جرمانوں سے بچا جا سکے۔
یہ کارروائی ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح کسٹمز اور سول ایوی ایشن حکام مل کر غیر قانونی اشیاء کی درآمد کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں اور قومی وسائل اور قوانین کی حفاظت کو یقینی بنا رہے ہیں۔
