انڈونیشیا میں پیدائش سے قبل بچوں کی خرید و فروخت کرنے والا گروہ پکڑا گیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

انڈونیشیا میں پولیس نے ایک بین الاقوامی بچوں کی سمگلنگ گروہ کو گرفتار کر لیا ہے جو پیدائش سے پہلے ہی بچوں کی خرید و فروخت میں ملوث تھا۔ حکام کے مطابق اس گروہ نے 2023 سے کم از کم 25 شیر خوار بچوں کی خرید و فروخت کی، جن کی عمریں تقریباً ایک سال کے قریب تھیں۔

latest urdu news

ویسٹ جاوا پولیس کرمنل انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق گرفتاریاں پونتیاناک اور ٹینجرانگ شہروں میں عمل میں آئی ہیں، جہاں سے بچوں کو سنگاپور بھیجنے سے پہلے امیگریشن دستاویزات تیار کی جاتی تھیں۔ اس گروہ نے حاملہ ماؤں اور والدین کو نشانہ بنایا، جو بچوں کی پرورش کرنے سے قاصر یا رضامند تھے۔

پولیس کے مطابق یہ افراد واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے ماؤں سے رابطہ کرتے، بعض معاملات میں بچے کو رحم میں ہی فروخت کر دیا جاتا تھا، جبکہ پیدائش کے بعد بچوں کی ماؤں کو ڈلیوری کے اخراجات سمیت رقم دی جاتی تھی۔

گروہ کے ارکان خاندانوں اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کے ذریعے ہدف تک پہنچتے تھے اور بچوں کو 2 سے 3 ماہ تک کیئر ٹیکرز کے حوالے کرتے تھے، جب کہ پیدائشی سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ اور دیگر ضروری دستاویزات تیار کی جاتی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق بچوں کی قیمت 11 سے 16 ملین انڈونیشین روپیہ (تقریباً 673 سے 980 ڈالرز) کے درمیان تھی۔ پولیس نے 13 افراد کو گرفتار کیا اور 6 بچوں کو بازیاب کرایا گیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter