پاکستان میں مون سون کا نواں اسپیل شروع ہو چکا ہے، جس کے تحت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 2 ستمبر تک شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے (پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث ندی نالے بپھرنے اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بارشوں کا دائرہ کار راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ سمیت پنجاب کے کئی اضلاع تک پھیل سکتا ہے۔ اسی طرح نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، جھنگ، سرگودھا، میانوالی، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔
پنجاب کے سیلابی علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری
ترجمان پی ڈی ایم اے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے نتیجے میں شہری علاقوں میں نکاسی آب کے مسائل اور ندی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔ ایسے میں ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے گزارش کی ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوراً ریسکیو ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں، اور ندی نالوں یا پانی بھرے علاقوں میں جانے سے اجتناب کریں۔
یہ اسپیشل اسپیل ایسے وقت میں آیا ہے جب پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے باعث پہلے ہی ہزاروں افراد متاثر ہو چکے ہیں اور وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں انتظامیہ کی مستعدی اور عوام کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔