وینزویلا کے بعد سابق امریکی صدر Donald Trump کی توجہ اب دنیا کے سب سے بڑے برف پوش جزیرے Greenland پر مرکوز ہے۔ یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آخر ایک برف سے ڈھکا ہوا، کم آبادی والا جزیرہ امریکہ کے لیے اتنا اہم کیوں بن گیا ہے کہ وہ اسے اپنا حق سمجھنے لگا ہے، حتیٰ کہ فوجی آپشن استعمال کرنے کی بات بھی سامنے آ رہی ہے۔
طاقت، وسائل اور انسانی فطرت
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ چاہے آج دنیا ملکوں اور سرحدوں میں تقسیم ہو چکی ہو، وسائل پر قبضہ اور دفاعی برتری حاصل کرنے کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوئی۔ Greenland کی اہمیت امریکہ کے لیے وہی ہے جو Ukraine روس کے لیے رکھتا ہے۔ جس طرح روس یہ نہیں چاہتا کہ اس کے پڑوس میں NATO موجود ہو، اسی طرح یورپ اور روس دونوں نہیں چاہتے کہ Greenland مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں چلا جائے۔
ورلڈ میپ میں گرین لینڈ کی اسٹریٹجک پوزیشن
دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو امریکہ اور یورپ کے درمیان، انتہائی شمال میں ایک وسیع و عریض برفانی جزیرہ دکھائی دیتا ہے جسے Greenland کہا جاتا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں 4 Pakistan سما سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ Greenland جغرافیائی طور پر North America کے بے حد قریب ہے، جس کی وجہ سے اس کی اسٹریٹجک اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
ڈنمارک کی ملکیت کیسے قائم ہوئی؟
یہ سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کے صفحات الٹنے ہوں گے۔ 9th century میں ڈنمارک کے Vikings پہلی بار Greenland تک پہنچے۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ اس سے پہلے یہاں کوئی انسان موجود نہیں تھا، کیونکہ یہاں پہلے ہی Inuit آباد تھے۔ آج امریکہ اسی بنیاد پر یہ دلیل دیتا ہے کہ جغرافیائی اور نسلی اعتبار سے Greenland پر اس کا حق بنتا ہے، مگر یہی منطق امریکہ کی اپنی تاریخ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔
وائکنگز کا مختصر قیام
Vikings شدید موسم اور سخت حالات کی وجہ سے Greenland میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے، لیکن ان کی آمد نے یورپ کے لیے اس جزیرے کا راستہ کھول دیا۔ یہی وہ موڑ تھا جس کے بعد Greenland یورپی طاقتوں کی نظروں میں آیا، اگرچہ اس وقت اسے زیادہ اہمیت حاصل نہ ہو سکی۔
امریکا نے وینزویلا کا تیل باضابطہ فروخت کرنا شروع کر دیا
ناروے، ڈنمارک اور گرین لینڈ کی شمولیت
17th century میں Norway اور Denmark کے اتحاد کے بعد Greenland کو باقاعدہ طور پر سلطنت کا حصہ بنا لیا گیا۔ بعد ازاں 1721 میں Denmark نے مذہبی اور تجارتی گروپس Greenland بھیجے تاکہ وہاں مستقل آباد کاری کی جا سکے اور اپنا اثر مضبوط بنایا جائے۔
برطانوی دور میں گرین لینڈ کی بے وقعتی
18th century میں جب Denmark کی طاقت کمزور ہوئی، اس وقت بھی British Empire نے Greenland میں کوئی خاص دلچسپی نہ لی۔ اس کی وجہ صاف تھی: شدید سرد موسم، مشکل زندگی اور اس وقت قدرتی وسائل کی عدم موجودگی۔ اسی لیے Greenland طویل عرصے تک عالمی طاقتوں کی توجہ سے باہر رہا۔
1933 کا فیصلہ اور قانونی حیثیت
1933 میں Norway اور Denmark کے درمیان Greenland کا تنازعہ عالمی عدالت میں پہنچا۔ عدالت نے فیصلہ Denmark کے حق میں دیا، جس کے بعد قانونی طور پر Greenland پر ڈنمارک کی ملکیت تسلیم کر لی گئی۔
دوسری جنگِ عظیم اور امریکہ کا کردار
Second World War کے دوران جب Germany نے Denmark پر قبضہ کیا تو Greenland کے دفاع کی ذمہ داری امریکہ کے سپرد کر دی گئی۔ اسی دوران امریکہ نے یہاں ایک فوجی اڈا قائم کیا، جو آج بھی NATO base کے طور پر فعال ہے۔
1953 کے بعد ڈنمارک کا دوبارہ کنٹرول
جنگ کے بعد 1953 میں Greenland دوبارہ Denmark کے انتظام میں آ گیا۔ Greenland کے شہریوں کو Denmark کی شہریت دی گئی اور اسے ایک صوبے یا ریاست کا درجہ دیا گیا، جس سے ڈنمارک کا سیاسی کنٹرول مزید مضبوط ہو گیا۔
خودمختاری کی طرف سفر
1980 میں ہونے والے referendum کے بعد Denmark کے اختیارات کم اور Greenland کی خودمختاری میں اضافہ ہوا۔ پھر 2009 کے referendum کے ذریعے Greenland کو مکمل داخلی خودمختاری دے دی گئی، جبکہ دفاع اور خارجہ پالیسی اب بھی Denmark کے پاس رہی۔ ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ Greenland کے عوام آہستہ آہستہ مکمل آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
امریکہ کی دلچسپی: ایک پرانی کہانی
امریکہ کی Greenland میں دلچسپی نئی نہیں۔ 1846 میں پہلی بار خریداری کی پیشکش کی گئی، 1946 میں Truman کے دور میں دوسری آفر دی گئی، اور 2019 میں Trump نے تیسری بار یہ پیشکش کی۔ تاہم Denmark نے ہر مرتبہ اسے مسترد کر دیا۔
آج کا گرین لینڈ: خودمختار مگر منسلک
آج بھی Greenland میں Danish currency استعمال ہوتی ہے اور لوگ Danish passport پر سفر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود Greenland کا اپنا پرچم، اپنی parliament اور داخلی خودمختاری موجود ہے، جو اسے ایک منفرد سیاسی حیثیت دیتی ہے۔
ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور یورپی ردعمل
Trump نے اپنی انتخابی مہم کے دوران واضح کیا کہ وہ Greenland کے معاملے میں military option کو رد نہیں کرتے۔ اس بیان کے بعد Denmark اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا، اور یہ کہا گیا کہ کسی بھی دھمکی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
نیٹو، فوجی مشقیں اور بڑھتی کشیدگی
امریکی بیانات کے بعد Denmark کے ساتھ ساتھ Germany، France، Norway اور Sweden نے Greenland میں فوجی موجودگی بڑھا دی اور مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دیں۔ اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا امریکہ واقعی اپنے ہی اتحادیوں کے ساتھ ٹکراؤ کی طرف بڑھ رہا ہے؟
امریکہ گرین لینڈ کے لیے اتنا سنجیدہ کیوں ہے؟
اس کی سب سے بڑی وجہ Greenland کی اسٹریٹجک لوکیشن ہے، کیونکہ اگر کبھی Russia نے امریکہ پر حملہ کیا تو خطرہ شمال کی سمت سے ہو گا۔ اسی لیے Trump Iron Dome کی طرز پر Golden Dome Defense System بنانے کی بات کرتے ہیں، جس کے لیے Greenland نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ Greenland قدرتی وسائل، خاص طور پر oil اور rare earth metals کے حوالے سے بھی بے حد اہم ہے، جبکہ Arctic کی برف پگھلنے سے نئے سمندری راستے اور تجارتی راہیں کھل رہی ہیں۔
ممکنہ انجام اور عالمی اثرات
اگر امریکہ نے طاقت کا استعمال کیا تو یورپ، جو اب تک اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتا ہے، ممکن ہے Russia کے قریب ہو جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں Greenland کا معاملہ صرف ایک جزیرے کا نہیں رہتا بلکہ NATO، عالمی طاقت کے توازن اور امریکہ کے superpower status کا امتحان بن جاتا ہے۔
