پنجاب کے کچے میں پولیس آپریشن: ڈرون حملے، سرجیکل کارروائیاں اور ڈاکوؤں کا سرینڈر

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب کے جنوبی اضلاع میں واقع دریائی کچّے کے علاقوں میں برسوں سے خوف اور جرائم کی علامت سمجھے جانے والے متعدد خطرناک ڈاکو حالیہ دنوں میں خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر چکے ہیں۔ پنجاب پولیس کے مطابق رواں ہفتے تین درجن سے زائد جبکہ مجموعی طور پر 148 ڈاکو ہتھیار ڈال چکے ہیں، جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے سروں پر ایک، ایک کروڑ روپے کے انعامات مقرر تھے۔

latest urdu news

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پنجاب پولیس نے سندھ پولیس، سندھ رینجرز اور دیگر اداروں کے تعاون سے کچّے کے علاقوں میں ایک مشترکہ اور ٹیکنالوجی سے لیس آپریشن شروع کیا، جس میں ڈرونز، تھرمل کیمرے، بُلٹ پروف گاڑیاں اور آرمرڈ پرسنل کیریئرز استعمال کیے گئے۔

’وہ ہمیں پہلی بار انسان لگ رہے تھے‘

جیو نیوز کے نمائندے الیاس رضا، جو اس سرینڈر کی تقریب کے عینی شاہد تھے، بی بی سی اردو کو بتاتے ہیں کہ یہ منظر غیر معمولی تھا۔

’زندگی میں پہلی بار ان ڈاکوؤں سے خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا بلکہ وہ ہم جیسے عام انسان لگ رہے تھے۔ انھوں نے صاف کپڑے پہنے ہوئے تھے، کندھوں پر سندھی چادریں اور سروں پر بلوچی ٹوپیاں تھیں۔‘

الیاس رضا کے مطابق عطااللہ پٹ عمرانی، ڈاڈو بنگیانی عرف مچھ کٹا، گورا عمرانی اور وقار عرف وقاری جیسے بدنام ڈاکو، جو کبھی جدید اور بھاری اسلحے سے لیس ہوتے تھے، اب امن اور سہولیات کی بات کر رہے تھے۔

’یہ وہی لوگ تھے جن کے ہاتھوں میں کبھی اینٹی ایئر کرافٹ گنز، ہیوی مشین گنز اور کلاشنکوفیں ہوتی تھیں، اور آج وہ حکومت سے سکول اور ہسپتال مانگ رہے تھے۔‘

راجن پور: پولیس کا کچے میں آپریشن، ڈاکوؤں کے سہولت کار ڈاکٹر اور ڈسپنسر گرفتار

حکومت کا مؤقف: ’سیف پنجاب پروگرام کامیاب رہا‘

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈاکوؤں کے سرینڈر کو ’سیف پنجاب پروگرام‘ کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اس چیلنج کو سنجیدگی سے قبول کیا۔

ان کے مطابق پولیس کو جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، بُلٹ پروف گاڑیاں اور مکمل لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں ملزمان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہونا پڑا۔

وزیرِ اعلیٰ

وزیرِ اعلیٰ نے اس موقع پر یہ اعلان بھی کیا کہ کچّے کے علاقوں میں سکول، ہسپتال، سڑکیں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

’اس بار سرحد پار فرار ممکن نہیں رہا‘

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی سب سے بڑی خصوصیت بین الصوبائی تعاون تھا۔ رحیم یار خان کے ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق ماضی میں اگر پنجاب میں کارروائی ہوتی تو ڈاکو سندھ فرار ہو جاتے تھے اور سندھ میں دباؤ بڑھنے پر پنجاب کی حدود میں آ جاتے تھے۔

’اس بار سندھ رینجرز، سندھ پولیس، راجن پور اور رحیم یار خان پولیس نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت آپریشن کیا، جس سے ڈاکوؤں کے لیے فرار کی گنجائش ختم ہو گئی۔‘

مریم نواز شریف کا دعویٰ ہے کہ کچے کے علاقوں کو تقریباً تمام ڈاکو‎ؤں سے پاک کر دیا گیا ہے

مریم نواز شریف کا دعویٰ ہے کہ کچے کے علاقوں کو تقریباً تمام ڈاکو‎ؤں سے پاک کر دیا گیا ہے

ڈی پی او کے مطابق ڈاکوؤں کے ٹھکانوں اور بنکروں کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ان کی نگرانی کی گئی اور واضح وارننگ دی گئی کہ مزاحمت کی صورت میں کارروائی مزید سخت ہو گی۔

’ڈاکوؤں نے موت کو سامنے دیکھ کر خود کو پولیس کے حوالے کیا۔‘

’عوام کا اعتماد جیتنا بھی اتنا ہی ضروری تھا‘

پولیس افسران کے مطابق یہ آپریشن صرف طاقت کے استعمال تک محدود نہیں تھا بلکہ مقامی آبادی کا اعتماد بحال کرنا بھی ایک بڑا ہدف تھا۔

ڈی پی او عرفان سموں کہتے ہیں کہ ماضی میں بعض اجتماعی مقدمات اور غلط ایف آئی آرز کے باعث عام لوگ بھی متاثر ہوتے رہے، جس سے ڈاکوؤں کو سہولت ملتی تھی۔

’ہم نے جھوٹی ایف آئی آرز ختم کیں، کمیونٹی سے بات چیت کی اور عام لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خود مقامی قبائل نے ڈاکوؤں کو سرینڈر پر آمادہ کیا۔‘

سرینڈر کرنے والوں کے لیے کیا رعایتیں ہوں گی؟

راجن پور کے ڈی پی او محمد عمران کے مطابق سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کو دوبارہ عام شہریوں کی طرح زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ریاست کی مدعیت میں درج مقدمات معاف کیے جا سکتے ہیں، تاہم اگر کسی شہری نے ذاتی طور پر مقدمہ درج کرا رکھا ہے تو اس کا سامنا کرنا ہو گا۔

جدید اسلحہ کہاں گیا؟

سرینڈر کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھا کہ جدید اسلحہ کہاں ہے۔ اس پر ڈی پی او راجن پور کا کہنا تھا کہ کچّے کے علاقے میں مجموعی طور پر تین اینٹی ایئر کرافٹ گنز تھیں، جن میں سے دو آپریشن کے دوران تباہ ہو گئیں جبکہ ایک سندھ کی حدود میں تھی۔

ان کے مطابق سمال مشین گنز اور دیگر اسلحہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحویل میں لے لیا ہے۔

پوسٹ آپریشن پالیسی: مستقل امن کی کوشش

پولیس حکام تسلیم کرتے ہیں کہ ماضی میں بھی ڈاکو سرینڈر کرتے رہے ہیں لیکن بعد میں دوبارہ سرگرم ہو جاتے تھے۔ اسی لیے اس بار ’پوسٹ آپریشن پالیسی‘ تیار کی گئی ہے۔

اس پالیسی کے تحت مقامی سرداروں، پولیس، سول انتظامیہ اور امن کمیٹیوں پر مشتمل کمیٹیاں بنائی جائیں گی، جبکہ 500 اہلکاروں پر مشتمل ایک ’کچہ کمیونٹی فورس‘ بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے، جس میں مقامی افراد کو شامل کیا جائے گا۔

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے اعلی حکام کو پوسٹ آپریشن پالیسی بھی تجویز کی گئی ہے

کیا واقعی امن لوٹ آیا ہے؟

کچّے کے علاقے کے رہائشی عبدالغفور کے مطابق اغوا، قتل اور بھتہ خوری کے واقعات اب ختم ہو چکے ہیں۔

’اب رات کے ایک بجے بھی سڑک پر نکل سکتے ہیں۔ ہم نے برسوں بعد امن کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔‘

تاہم ایک اور شہری احمد کا کہنا ہے کہ امن کے ساتھ ساتھ زمینوں پر ناجائز قبضے کا مسئلہ بھی حل ہونا چاہیے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ مسائل بھی آئندہ مرحلہ وار حل کیے جائیں گے۔

یہ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ امن دیرپا ثابت ہو گا یا نہیں، تاہم پنجاب اور سندھ کے کچّے کے علاقوں میں حالیہ تبدیلی کو مقامی آبادی ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دے رہی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter