پاکستان میں نئے صوبے: سیاسی نعرہ یا انتظامی ناگزیر حقیقت؟

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نئے صوبوں کی بحث ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ سامنے آ چکی ہے۔ آج اقتدار کے گلیاروں اور فیصلہ ساز حلقوں میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا 25 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کو محض چار صوبوں کے ذریعے مؤثر طور پر چلایا جا سکتا ہے؟ یہ سوال اب صرف سیاسی بیان بازی نہیں رہا بلکہ ایک سنجیدہ انتظامی اور ریاستی ضرورت بن چکا ہے۔

latest urdu news

مرکزیت کا بوجھ اور بگڑتی گورننس

پاکستان میں گورننس کا موجودہ ڈھانچہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ آج راجن پور کی ایک نالی کی منظوری لاہور سے ہوتی ہے اور روہڑی کی گلیوں کا اختیار کراچی کے سیکرٹریٹ میں قید ہے۔ یہ غیر فطری مرکزیت نہ صرف انتظامی رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے بلکہ دور دراز علاقوں میں احساسِ محرومی کو بھی جنم دے رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب انتظامی سہولت کے نام پر اضلاع اور تحصیلیں تقسیم کی جا سکتی ہیں، تو صوبوں کی تقسیم کو ہمیشہ ایک ناقابلِ حل مسئلہ کیوں بنا دیا جاتا ہے؟

آبادی کا دباؤ اور پرانا ڈھانچہ

1970 میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد پاکستان کو موجودہ چار صوبے ملے تھے، مگر اُس وقت کی آبادی اور آج کی آبادی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق صرف پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر پنجاب ایک الگ ملک ہوتا تو یہ دنیا کا بارہواں بڑا ملک ہوتا۔

عالمی موازنہ کیا جائے تو فلپائن کی آبادی پنجاب سے کم ہے، مگر وہاں 81 صوبے ہیں۔ جاپان کی آبادی تقریباً پنجاب کے برابر ہے، لیکن وہاں 47 انتظامی یونٹس مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔ جب اتنی بڑی آبادی کا کنٹرول صرف ایک شہر، یعنی لاہور، کے پاس ہو تو پسماندہ علاقوں میں بے چینی اور محرومی فطری امر بن جاتی ہے۔

نوآبادیاتی ذہنیت اور اقتدار کی اجارہ داری

پاکستان آج بھی اسی انتظامی فریم ورک کے تحت چل رہا ہے جو انگریز دور میں صرف ٹیکس اکٹھا کرنے اور کنٹرول قائم رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ نظام عوامی خدمت کے لیے نہیں بلکہ طاقت کے ارتکاز کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ اسی نوآبادیاتی ذہنیت کے باعث اقتدار چند بڑے شہروں اور چند سیاسی خاندانوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

نئے صوبوں کی مخالفت دراصل انتظامی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر اقتدار کی مرکزیت ٹوٹ گئی تو نئی قیادت، نئی جماعتیں اور نئے سیاسی چہرے سامنے آ جائیں گے، جو موجودہ سیاسی اجارہ داریوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔

معاشی ناہمواری: محرومی کی اصل جڑ

پاکستان کا موجودہ معاشی نقشہ ایک تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پنجاب میں مجموعی غربت کی شرح 30 فیصد ہے، مگر وسطی پنجاب سے جنوبی پنجاب کی طرف بڑھتے ہوئے یہ شرح تیزی سے بڑھتی ہے۔ بلوچستان میں غربت کی شرح 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ 48 فیصد ہے۔

وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہی وہ ایندھن ہے جو علاقائی تعصب اور ریاست مخالف جذبات کو جنم دیتا ہے۔ جب ترقیاتی بجٹ دارالحکومتوں کے فلائی اوورز پر خرچ ہوتا رہے اور پسماندہ اضلاع کے اسکول اور ہسپتال کھنڈر بنے رہیں، تو قومی یکجہتی محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

دنیا کیا کہتی ہے؟

دنیا بھر میں انتظامی تقسیم کو عوامی سہولت اور بہتر گورننس سے جوڑا گیا ہے۔ بھارت آزادی کے وقت 17 ریاستوں پر مشتمل تھا، مگر آج وہاں 28 ریاستیں اور 8 وفاقی علاقے موجود ہیں۔ کینیا نے 2013 میں اپنے 8 صوبوں کو ختم کر کے 47 کاؤنٹیز قائم کیں تاکہ طاقت نچلی سطح تک منتقل ہو سکے۔

ان مثالوں نے ثابت کیا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس نہ صرف معاشی ترقی کی رفتار بڑھاتے ہیں بلکہ ریاست پر عوام کے اعتماد کو بھی بحال کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ تجربات ایک واضح مشعلِ راہ ہیں۔

معاشی اور آئینی رکاوٹیں

تصویر کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اس وقت 80 ہزار ارب روپے سے زائد کے قرض تلے دبا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک نیا صوبہ بنانے پر کم از کم 500 ارب روپے کا ابتدائی خرچہ آئے گا، جس میں صوبائی اسمبلی، ہائی کورٹ، سول سیکرٹریٹ اور بیوروکریسی شامل ہیں۔

آئینی طور پر بھی یہ عمل نہایت پیچیدہ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں اپنے ووٹ بینک اور اختیارات تقسیم کرنے سے گریز کرتی ہیں، جبکہ سندھ میں اس معاملے کو جذباتی رنگ دے کر بحث وہیں ختم کر دی جاتی ہے۔

ناکام مرکزی ماڈل اور مقامی حکومتیں

پاکستان کے سماجی اشاریے موجودہ نظام کی ناکامی پر مہر ثبت کرتے ہیں۔ ملک میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ پنجاب میں شرح خواندگی 66 فیصد ہے جبکہ بلوچستان میں یہ 40 فیصد تک گر جاتی ہے۔ صحت کے شعبے میں صورتحال یہ ہے کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں 10 لاکھ مریضوں کے لیے صرف 3 ہسپتال دستیاب ہیں۔

اصل حل شاید صرف نئے صوبے نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 140-اے پر حقیقی عمل درآمد ہے، جو بااختیار مقامی حکومتوں کی ضمانت دیتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی بھی نچلی سطح پر طاقت منتقل نہیں ہونے دی گئی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter