2026 کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے حیران کن اور متنازع اقدام کے ساتھ ہوا، جب امریکی افواج نے وینزویلا میں ایک فوجی کارروائی انجام دی اور صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کیا۔ اس کارروائی نے نہ صرف امریکہ کی خارجہ پالیسی میں غیر ملکی مداخلت کے نئے خطرات کو اجاگر کیا بلکہ دنیا بھر میں سوالات پیدا کر دیے کہ ٹرمپ کے ممکنہ اگلے ہدف کون سے ممالک ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی ساکھ مضبوط کرنے کی کوشش
یہ کارروائی ایسے وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے 2025 میں نوبل امن انعام نہ جیتنے کے بعد اپنی بین الاقوامی ساکھ کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ کی یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنی سخت گیر پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، حتیٰ کہ ان اقدامات کے نتیجے میں عالمی سطح پر تنازع اور تشویش پیدا ہو۔
کولمبیا: اگلا ممکنہ ہدف؟
ٹائم میگزین کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور کولمبیا کے صدر گستاوو پیڈرو کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ ٹرمپ نے پیڈرو کو منشیات کے غیر قانونی نیٹ ورک کے ساتھ منسلک قرار دیتے ہوئے کولمبیا میں ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ یہ اشارہ ہے کہ کولمبیا بھی وینزویلا کے بعد امریکی خارجہ پالیسی کے ممکنہ مرکز میں آ سکتا ہے۔
کیوبا پر متضاد بیانات
ٹرمپ نے کیوبا کے بارے میں متضاد بیانات دیے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے کہا کہ کیوبا ناکام ریاست ہے، مگر بعد میں یہ موقف اپنایا کہ مداخلت کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ خود ہی سیاسی طور پر گر جائے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کا رویہ ملک کی اندرونی سیاسی صورتحال اور اس کی جغرافیائی اہمیت پر منحصر ہو سکتا ہے۔
وینزویلا کے بعد کولمبیا پر بھی امریکی کارروائی کا عندیہ
گرین لینڈ: پرانی خواہش دوبارہ
وینزویلا کی کارروائی نے ٹرمپ کی گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کی پرانی خواہش کو بھی دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ اس حوالے سے ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے سختی سے تردید کی۔ ٹرمپ کی دلچسپی اس جزیرے میں توانائی اور جغرافیائی اہمیت کے امکانات کی وجہ سے دیکھی جاتی ہے۔
عالمی ردعمل اور خدشات
ٹرمپ کی حالیہ کارروائیوں نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کی ہے کہ دیگر ممالک بھی امریکی فوجی مداخلت کے ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر جنوبی امریکہ کے ممالک، جہاں امریکہ کی اقتصادی اور سیاسی دلچسپیاں مضبوط ہیں، اس طرح کے اقدامات کے لیے زیادہ خطرے میں نظر آ سکتے ہیں۔
وینزویلا کی حالیہ فوجی کارروائی ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں جارحانہ رویے کی واضح مثال ہے۔ کولمبیا، گرین لینڈ، اور کیوبا جیسے ممالک مستقبل میں ممکنہ ہدف ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کے لیے یہ لمحہ خبردار کرنے والا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں مداخلت کے امکانات بڑھ رہے ہیں، اور بین الاقوامی تعلقات میں نئے چیلنجز جنم لے سکتے ہیں۔
