انٹارکٹیکا کی برفانی تہہ کے نیچے کیا چھپا ہے؟ سائنسدان جاننے میں کامیاب

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

انٹارکٹیکا، دنیا کا سب سے سرد اور برف سے ڈھکا براعظم، ہمیشہ سائنسدانوں کے لیے تجسس کا باعث رہا ہے۔ حال ہی میں ماہرین نے اس کی موٹی برفانی تہہ کے نیچے چھپی ایک خفیہ دنیا کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

latest urdu news

برفانی تہہ اور نیچے موجود خطے کی تفصیلات

سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ انٹارکٹیکا کی برفانی تہہ تقریباً 14 کلومیٹر موٹی ہے۔ اس کے نیچے موجود خطے کی معلومات حاصل کرنا ماضی میں تقریباً ناممکن تھا، کیونکہ برف کی یہ موٹی پرت سطح کو چھپائے ہوئے تھی۔ اب جدید سیٹلائیٹ ڈیٹا اور میپنگ تکنیکس کے ذریعے پہلی بار اس براعظم کے نیچے چھپے جغرافیے کا سب سے تفصیلی نقشہ تیار کیا گیا ہے۔

اس نقشے میں ہزاروں پہاڑ، وادیاں، پہاڑی سلسلے اور گہری کھائیاں سامنے آئی ہیں، جو قبل ازیں محض قیاس آرائیوں کا حصہ تھیں۔ محققین کے مطابق یہ معلومات نہ صرف انٹارکٹیکا کے جغرافیے کو سمجھنے میں مددگار ہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور برف کے پگھلنے کے عمل کی پیش گوئی میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔

تحقیق کے طریقہ کار اور جدید تکنیکیں

ایڈنبرگ یونیورسٹی کے اسکول آف جیو سائنسز کے ماہرین نے اس تحقیق پر کام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انٹارکٹیکا کی برفانی تہہ لاکھوں برسوں سے اس علاقے کے اوپر جم گئی ہے، جو سطح، پہاڑی سلسلوں اور دیگر جغرافیائی خصوصیات سے بھرپور ہے۔

اس تحقیق کے لیے آئس فلو پرٹربیشن اینالائسز نامی جدید میپنگ تکنیک استعمال کی گئی، جسے سیٹلائیٹ ڈیٹا کے ساتھ ملا کر نیچے موجود جغرافیے کا سب سے تفصیلی نقشہ تیار کیا گیا۔ محققین کے مطابق اس طریقہ کار سے اب وہ انٹارکٹیکا کی چھپی ہوئی دنیا کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

اہم نتائج اور مستقبل کے امکانات

اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے چھپے ہوئے پہاڑی سلسلے، وادیاں اور کھائیاں موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار اور برف کے پگھلنے کے عمل پر کس طرح اثر ڈال سکتی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تفصیلی نقشے مستقبل میں موسمی ماڈلز کی درستگی بڑھانے، عالمی سطح پر پانی کی سطح کے اثرات کی پیش گوئی کرنے اور براعظم کے ماحولیاتی نظام کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

اس تحقیق کے نتائج معتبر سائنسی جرنل "نیچر” میں شائع ہوئے ہیں اور یہ انٹارکٹیکا کی تحقیق میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter