سائنسدانوں نے کائنات کے ایک اہم اور طویل عرصے سے زیرِ بحث راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ جدید ترین جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی تصاویر میں نظر آنے والے ننھے سرخ نشانات، جنہوں نے ماہرینِ فلکیات کو الجھن میں ڈال رکھا تھا، اب اپنی اصل حقیقت کے ساتھ سامنے آ گئے ہیں۔ نئی تحقیق کے مطابق یہ سرخ نشان دراصل طاقتور اور نوجوان بلیک ہولز کی علامت ہیں۔
جیمز ویب کی تصاویر اور سائنسی الجھن
جب سے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے خلا کی گہرائیوں کا مشاہدہ شروع کیا، اس کی تصاویر میں سیکڑوں کی تعداد میں ننھے سرخ دھبے نظر آنے لگے۔ ابتدا میں سائنسدان یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ یہ نشان کس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں، کیونکہ ان کی روشنی اور ساخت روایتی کہکشاؤں سے مختلف دکھائی دیتی تھی۔
یہ سرخ نشان خاص طور پر ان کہکشاؤں میں دیکھے گئے جو تقریباً 13 ارب سال پرانی سمجھی جاتی ہیں، یعنی کائنات کی ابتدائی دور کی باقیات۔
بلیک ہولز سے جڑی حیران کن حقیقت
ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ یہ سرخ نشان دراصل بہت بڑے مگر نسبتاً نوجوان بلیک ہولز ہیں۔ جب یہ بلیک ہولز اپنے اردگرد موجود گیس کو اپنی طرف کھینچتے ہیں تو اس عمل کے دوران انتہائی زیادہ حرارت اور ریڈی ایشن خارج ہوتی ہے۔
یہ توانائی اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ گیس کے گھنے بادلوں کو عبور کر کے روشنی باہر نکل آتی ہے، جو جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کو سرخ رنگ میں دکھائی دیتی ہے۔
پہلے اندازے کیوں غلط ثابت ہوئے؟
ابتدا میں سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ نشان نئی تشکیل پانے والی کہکشاؤں کی علامت ہیں، مگر بعد ازاں یہ نظریہ درست ثابت نہ ہو سکا۔ کچھ ماہرین نے بلیک ہولز کا امکان ضرور ظاہر کیا، لیکن اس کی وضاحت موجود نہ تھی کہ وہ اتنی ابتدائی کائنات میں کیسے وجود میں آ گئے۔
نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ بلیک ہولز سابقہ اندازوں کے مقابلے میں چھوٹے مگر کہیں زیادہ متحرک ہیں، اور تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
کائنات کی ابتدا کو سمجھنے میں نئی پیش رفت
محققین کے مطابق اس دریافت سے اس بات کے قوی شواہد ملتے ہیں کہ بلیک ہولز کائنات کے ابتدائی دور میں بہت تیزی سے وجود میں آئے اور پھیلے۔ یہ تحقیق کائنات کی تشکیل، کہکشاؤں کے ارتقا اور بلیک ہولز کے کردار کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔
اس سائنسی تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع کیے گئے ہیں، جو اس دریافت کی اہمیت اور ساکھ کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
