بچوں میں بڑھتا ’اسکرین ٹائم‘ اور دل کی صحت سے متعلق نئی تحقیق

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایک حالیہ تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف کیا گیا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں اسکرین ٹائم کے بڑھنے سے ان کے دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، خاص طور پر جب نیند کی کمی بھی ہو۔ یہ مطالعہ "جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن” میں شائع کیا گیا، جس میں ڈنمارک کے ایک ہزار سے زائد ماؤں اور بچوں کو شامل کیا گیا تھا۔

latest urdu news

تحقیق میں اسکرین ٹائم، نیند اور جسمانی سرگرمیوں کی نگرانی کی گئی، جس سے پتہ چلا کہ ہر اضافی گھنٹہ اسکرین استعمال کرنے سے 6 سے 10 سال کے بچوں میں کارڈیو میٹابولک رِسک تقریباً 0.08 پوائنٹ بڑھ گیا، جبکہ 18 سال کے نوجوانوں میں یہ بڑھ کر 0.13 پوائنٹ تک جا پہنچا۔ خاص طور پر کم نیند یا رات دیر تک جاگنے والے بچوں میں یہ خطرہ زیادہ تھا۔

دل کی صحت پر اثرات:

اس تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ نوعمر بچوں میں آئندہ دس سال میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ محققین نے اسکرین ٹائم کے اثرات کو مزید واضح کرنے کے لیے خون میں 37 بائیو مارکرز کی ایک مخصوص ’اسکرین ٹائم فنگرپرنٹ‘ دریافت کی، جو میٹابولک تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

پاکستان میں بڑھتے رجحانات:

پاکستان میں بھی آن لائن کلاسز، موبائل فون اور گیمنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے بچوں کا اسکرین ٹائم تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں نیند کی کمی، موٹاپا، اور انسولین ریزسٹنس جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بچوں کے دل کی حفاظت کے لیے عملی تجاویز:

ماہرین نے بچوں کے والدین کو چند اہم تجاویز دی ہیں:

اسکرین ٹائم کی حد مقرر کریں: بچوں کے لیے روزانہ اسکرین ٹائم کی حد مقرر کریں، مثلاً اسکول کے بعد صرف دو گھنٹے یا اس سے کم وقت موبائل یا دیگر اسکرینز استعمال کرنے دیں۔

اسکرین فری زون بنائیں: کھانے کی میز پر اسکرین کا استعمال نہ ہونے دیں اور سونے سے ایک گھنٹہ پہلے بچوں کو اسکرین سے پرہیز کرنے کی عادت ڈالیں۔

نیند کی اہمیت: بچوں کے لیے باقاعدہ سونے اور جاگنے کا وقت مقرر کریں، اور بیڈ روم میں موبائل یا ٹی وی رکھنے سے گریز کریں۔

جسمانی سرگرمیاں بڑھائیں: بچوں کو باہر کھیلنے یا ورزش کرنے کی ترغیب دیں، تاکہ وہ صحت مند رہیں۔

والدین خود مثال قائم کریں: والدین کو چاہیے کہ وہ خود اسکرین کا کم استعمال کریں اور بچوں کے ساتھ وقت گزاریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں پر صرف پابندیاں نہ لگائیں، بلکہ انہیں آسان زبان میں اس کے اثرات اور فوائد سے آگاہ کریں، تاکہ وہ خود اس کی اہمیت کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter