چین: 24 سال بعد ریلوے اسٹیشن پر بچھڑ جانے والا بچہ والد سے ملا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایک بچپن میں جدا ہونے والے شخص کی لمبی تلاش کے بعد اپنے والد سے ملاقات، انسانی جذبات اور ٹیکنالوجی کی قوت کی مثال

latest urdu news

بچپن میں جدائی کا واقعہ

چین کے صوبے لیاؤننگ میں 2001 میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا۔ چار سالہ زینگ یون پنگ اپنے ایک انکل کے ساتھ ریلوے اسٹیشن گیا تھا، جہاں انکل اسے آئسکریم لینے کے لیے چھوڑ گیا۔ اس دوران زینگ اپنے والدین سے بچھڑ گیا۔

زینگ کو فوری طور پر ایک حکومتی فلاحی مرکز لے جایا گیا، جہاں اسے شین ہوابی کا نام دیا گیا۔ بعد میں 2005 میں ایک کینیڈین جوڑے نے اسے گود لے لیا اور کینیڈا منتقل کر دیا۔ تاہم کچھ عرصے بعد یہ جوڑا طلاق کے مراحل سے گزرا اور زینگ کی پرورش میں مشکلات آئیں۔

تلاش اور شناخت

زینگ کے والد جیل میں تھے اور والدہ نے دوسری شادی کر لی تھی، اس لیے اس کی ابتدائی زندگی مشکلات اور جدائی میں گزری۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد زینگ نے کام شروع کیا اور 2025 میں بی بی ریٹرننگ ہوم نامی ادارے سے رجوع کیا، جو بچپن میں والدین سے بچھڑ جانے والے بچوں کو دوبارہ اپنے خاندان سے ملانے کا کام کرتا ہے۔

ادارے نے زینگ کے خون کے نمونے لے کر چین کے قومی ڈی این اے ڈیٹا بیس میں بھیجے۔ کچھ دن بعد اس کے والدین کی شناخت ہو گئی۔ زینگ کے والد نے کہا:
"24 سال بعد جب میں نے اس کی تصویر دیکھی، تو فوراً جان گیا کہ یہ میرا بیٹا ہے کیونکہ وہ بالکل میری طرح نظر آ رہا تھا۔”

ملاقات اور موجودہ صورتحال

بیٹے سے ملاقات سے قبل والد نے زینگ کو 10 ہزار یوآن ٹرانسفر کیے۔ تاہم زینگ ابھی تک اپنی والدہ سے نہیں ملا، کیونکہ وہ ایک مختلف صوبے میں مقیم ہیں۔

زینگ اب کینیڈا کا شہری ہے اور چند ہفتوں میں ویزا کے مسائل ختم ہونے کے بعد واپس چین جا سکے گا۔

انسانی جذبات اور ٹیکنالوجی کی طاقت

یہ واقعہ نہ صرف انسانی جذبات کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے الگ ہونے والے خاندانوں کو دوبارہ جوڑنے کی صلاحیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ زینگ کی کہانی ایک مثال ہے کہ امید اور صبر کے ساتھ ہر جدائی کو ختم کیا جا سکتا ہے، چاہے اس میں دہائیوں لگ جائیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter