خلا سے زمین کا دلکش منظر: آرٹیمس 2 مشن کی حیرت انگیز تصاویر

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

خلا سے زمین کی خوبصورتی ہمیشہ انسان کو مسحور کرتی رہی ہے، مگر جب ہمارا سیارہ زمین کے مدار سے باہر سے دیکھا جائے تو اس کا منظر مزید حیران کن ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی خلائی ادارے NASA کے Artemis II مشن میں سوار خلا بازوں نے ایسی ہی نایاب تصاویر شیئر کی ہیں، جن میں زمین ایک روشن اور خوبصورت کرہ کے طور پر نظر آتی ہے۔

latest urdu news

خلا سے زمین کا منفرد نظارہ

خلا بازوں کے مطابق جب وہ زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی جانب روانہ ہوئے تو زمین کا منظر بالکل ویسا محسوس ہوا جیسے ہم چاند کو دیکھتے ہیں۔ ایک خلا باز کے الفاظ میں، “ہم زمین کو چاند کی طرح دیکھ رہے ہیں، اور یہ بے حد خوبصورت ہے۔”

ناسا کی جانب سے جاری تصاویر میں ایک مکمل روشن زمین دکھائی گئی ہے، جبکہ ایک اور تصویر میں زمین کا آدھا حصہ روشنی میں اور آدھا تاریکی میں نظر آتا ہے، جو خلا کی وسعت اور زمین کی نزاکت کو نمایاں کرتا ہے۔

مشن کی پیش رفت اور فاصلہ

یہ تصاویر اس وقت لی گئیں جب Orion spacecraft زمین سے تقریباً ایک لاکھ 52 ہزار میل دور پہنچ چکا تھا۔ یہ فاصلہ زمین کے نچلے مدار سے کہیں زیادہ ہے، جہاں سے عموماً International Space Station (آئی ایس ایس) زمین کا مشاہدہ کرتا ہے۔

Artemis II مشن یکم اپریل کو روانہ ہوا اور توقع ہے کہ 6 اپریل کو چاند کے مدار تک پہنچے گا۔ یہ مشن تقریباً 10 دنوں پر محیط ہے۔

تاریخی اہمیت

اس مشن کی خاص بات یہ ہے کہ 1972 کے بعد پہلی بار انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ نصف صدی سے زائد عرصے بعد پہلا موقع ہے جب خلا باز چاند کے مدار تک پہنچیں گے، اگرچہ وہ چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے۔

مشن میں شامل خلا بازوں میں Reid Wiseman، Victor Glover، Christina Koch اور Jeremy Hansen شامل ہیں۔ اس مشن کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پہلی بار ایک سیاہ فام خلا باز، ایک خاتون اور ایک غیر امریکی فرد کو چاند کے مدار تک بھیجا جا رہا ہے۔

مستقبل کے منصوبے

اگر یہ مشن کامیاب رہتا ہے تو یہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار میل سے زائد سفر کا ریکارڈ قائم کرے گا۔ اس کے بعد Artemis III مشن 2028 میں روانہ کیا جائے گا، جس میں خلا باز چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔

اس سے قبل نومبر 2022 میں Artemis I مشن کامیابی سے چاند کا چکر لگا کر واپس آیا تھا، تاہم اس میں کوئی انسان سوار نہیں تھا۔

تکنیکی چیلنجز

مشن کے آغاز میں خلا بازوں کو ایک غیر متوقع مسئلے کا سامنا بھی کرنا پڑا جب خلائی جہاز کے ٹوائلٹ میں خرابی پیدا ہوگئی، تاہم بعد میں اسے درست کر لیا گیا۔

ماہرین کے مطابق ایسے مشنز نہ صرف سائنسی تحقیق کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ انسان کو کائنات میں اپنی حیثیت اور زمین کی اہمیت کا بھی احساس دلاتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter