ترکیہ میں منعقدہ 48ویں استنبول میراتھون میں پاکستانی رنرز نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں 18 پاکستانیوں نے 42.195 کلومیٹر کی ریس مکمل کی۔ ثاقب خان 2 گھنٹے 49 منٹ 33 سیکنڈز میں فاصلہ طے کرکے پاکستانیوں میں پہلے نمبر پر رہے اور وہ واحد پاکستانی رنر تھے جنہوں نے میراتھون 3 گھنٹے سے کم وقت میں مکمل کی۔
استنبول میراتھون میں ثاقب خان نے اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت دیگر پاکستانی رنرز کو پیچھے چھوڑ دیا۔ محمد سجاد نے 3 گھنٹے 17 منٹ 29 سیکنڈز میں ریس مکمل کرکے دوسری جبکہ اقبال علی خان نے 3 گھنٹے 23 منٹ 58 سیکنڈز کے وقت کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ثاقب خان نے محمد سجاد کے مقابلے میں 27 منٹ 56 سیکنڈز پہلے فنش لائن عبور کی، جبکہ اقبال علی خان ان سے 34 منٹ 25 سیکنڈز پیچھے رہے۔
آخری مرحلے میں ثاقب خان کی شاندار واپسی
ریس کے مختلف مراحل کے اسپلٹ ٹائمز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثاقب خان اور محمد سجاد کے درمیان مقابلے کی صورت حال آخری حصے میں نمایاں طور پر تبدیل ہوئی۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق محمد سجاد ہاف میراتھون کے مقام پر ثاقب خان سے ایک منٹ 51 سیکنڈز آگے تھے۔ 25 کلومیٹر پر ان کی برتری بڑھ کر 2 منٹ 4 سیکنڈز ہوگئی، جبکہ 30 کلومیٹر کے مقام پر وہ ثاقب خان سے 6 منٹ 17 سیکنڈز آگے تھے۔
تاہم، ریس کے آخری حصے میں ثاقب خان نے تیزی سے فاصلہ کم کیا۔ 35 کلومیٹر کے مقام پر سجاد کی برتری صرف 36 سیکنڈز رہ گئی، جبکہ 40 کلومیٹر تک ثاقب خان واضح برتری حاصل کرچکے تھے۔
رپورٹ میں دیے گئے ایڈجسٹ شدہ اسپلٹ ٹائمز کے مطابق 40 کلومیٹر پر ثاقب خان کو 17 منٹ 43 سیکنڈز کی برتری حاصل تھی۔ اس کے بعد انہوں نے ریس مکمل کرکے پاکستانی رنرز میں پہلی پوزیشن اپنے نام کرلی۔
پاکستانی رنرز کی دیگر نمایاں کارکردگیاں
پاکستانی رنرز میں عرفان علی 3 گھنٹے 52 منٹ 47 سیکنڈز کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے، جبکہ کامران یوسف نے 4 گھنٹے 2 منٹ 19 سیکنڈز میں ریس مکمل کرکے پانچویں پوزیشن حاصل کی۔
محمد اسد صدیقی نے 4 گھنٹے 21 منٹ 2 سیکنڈز، محمد ذیشان علی نے 4 گھنٹے 28 منٹ 40 سیکنڈز اور عدیل منصور خان نے 4 گھنٹے 39 منٹ 2 سیکنڈز میں میراتھون مکمل کی۔
شکاگو میراتھون میں پاکستانی رنرز کی شرکت، نزار نیانی سب سے نمایاں
خواتین میں مہناز نوید نمایاں پاکستانی رنر رہیں، جنہوں نے 4 گھنٹے 52 منٹ 6 سیکنڈز میں مقررہ فاصلہ طے کیا۔ سنائنا نے 5 گھنٹے 59 منٹ 40 سیکنڈز میں ریس مکمل کی۔
دیگر پاکستانی فِنشرز میں محمد گلریز خان نے 5 گھنٹے 2 منٹ 43 سیکنڈز، محمد اسد خان نے 5 گھنٹے 21 منٹ 36 سیکنڈز، نوفل الٰہی نے 5 گھنٹے 35 منٹ 11 سیکنڈز اور قسیم سعید نے 5 گھنٹے 42 منٹ 13 سیکنڈز میں ریس مکمل کی۔
اسی طرح محمد اشعر صدیقی نے 5 گھنٹے 46 منٹ 22 سیکنڈز، محمد جہانزیب خان نے 6 گھنٹے 12 منٹ ایک سیکنڈ، فہد منصوری نے 6 گھنٹے 14 منٹ 12 سیکنڈز اور محمد ارسلان ایوب نے 6 گھنٹے 14 منٹ 57 سیکنڈز میں فنش لائن عبور کی۔
استنبول میراتھون کی عالمی اہمیت
استنبول میراتھون کو دنیا کی واحد بین البراعظمی میراتھون قرار دیا جاتا ہے۔ اس ریس کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ رنرز ایشیا سے یورپ تک باسفورس پل عبور کرتے ہیں، جبکہ مقابلے کا اختتام سلطان احمد اسکوائر پر ہوتا ہے۔
ایونٹ کی مردوں کی ایلیٹ میراتھون میں کینیا کے فِلیمون کِپٹو کِپچمبا نے 2 گھنٹے 8 منٹ 44 سیکنڈز میں فاصلہ طے کرکے کورس ریکارڈ قائم کیا۔ خواتین کی ریس ایتھوپیا کی کاسانیش ایانےو بازے نے 2 گھنٹے 24 منٹ 40 سیکنڈز میں جیتی۔
استنبول میراتھون کو ورلڈ ایتھلیٹکس کا گولڈ لیبل حاصل ہے، جو اسے بین الاقوامی سطح پر اہمیت دینے والے عوامل میں شامل ہے۔ رواں ایونٹ میں 18 پاکستانیوں کی جانب سے ریس مکمل کرنا، جبکہ ثاقب خان کا 3 گھنٹے سے کم وقت میں فنش لائن عبور کرنا، پاکستانی رنرز کی کارکردگی کے نمایاں پہلو رہے۔
