آبنائے ہرمز کے قریب پاکستان کے لیے ایل این جی ٹینکر پر حملہ، بلوم برگ کا اہم انکشاف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

آبنائے ہرمز کے قریب پاکستان کے لیے قطر سے ایل این جی لے جانے والے بحری جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ بلوم برگ کے مطابق ٹینکر کو ایرانی حکام نے حملے سے چند گھنٹے قبل محفوظ گزرگاہ کی اجازت دی تھی، تاہم واقعے میں عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا۔

latest urdu news

قطری گیس کمپنی کے مطابق ایل این جی ٹینکر جمعے کی رات حملے کا نشانہ بنا۔ کمپنی نے بتایا کہ جہاز محفوظ ہے اور عملے کے کسی رکن کو نقصان نہیں پہنچا۔ حکام واقعے کے بعد ٹینکر کو پہنچنے والے نقصان اور حملے کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی مالیاتی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے قطر سے ایل این جی لے جانے والے بحری جہاز کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے ایران سے مذاکرات کیے تھے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب خطے میں بحری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کو سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔

ایرانی اجازت کے باوجود ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا

بلوم برگ کے مطابق پاکستان کے لیے ایل این جی لے جانے والا بحری جہاز المائدہ قطر سے گیس لے کر آبنائے ہرمز کی جانب بڑھ رہا تھا۔ مارشل آئی لینڈ کے پرچم تلے سفر کرنے والے اس ٹینکر کو جمعے کے روز آبنائے ہرمز کے قریب حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے سے چند گھنٹے قبل ایرانی حکام نے ٹینکر کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کی منظوری دی تھی۔ تاہم، اس اجازت کے باوجود جہاز پر حملہ ہوا۔

بلوم برگ کے مطابق واقعے کے بعد ٹینکر نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور واپس خلیج کی جانب روانہ ہوگیا۔ فی الحال فراہم کردہ معلومات میں حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے کوئی حتمی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

پاکستان کو اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس بحران کا خدشہ

قطر کا تحقیقات اور بحری سلامتی پر مؤقف

قطر کی وزارت خارجہ نے واقعے پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ملک بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے اثاثوں کے تحفظ اور بحری جہازوں سمیت ان کے عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق متعلقہ حکام واقعے اور اس کے ذمہ داروں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حملے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

پاکستان کی گیس فراہمی اور قیمتوں پر ممکنہ اثرات

بلوم برگ کے مطابق اگر ایل این جی کی یہ کھیپ پاکستان نہ پہنچ سکی تو ملک کو گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری کرنا پڑ سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں عالمی منڈی میں گیس کی قیمتیں تین گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔ ایسی صورت میں متبادل ذرائع سے ایل این جی خریدنے سے پاکستان کے درآمدی اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

اس واقعے نے پاکستان کے لیے توانائی کی ترسیل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا ہے۔ تاہم، اس کھیپ کی پاکستان آمد، ممکنہ متبادل خریداری اور مالی اثرات کے بارے میں حتمی صورت حال متعلقہ حکام کی مزید معلومات کے بعد واضح ہوگی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں