پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں کوئی خفیہ نکات شامل نہیں ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک معاہدے کی توثیق کے مراحل مکمل کر چکے ہیں، جبکہ اس کی شقیں کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ مشترکہ دفاع کے لیے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے اس مسودے کو تسلیم کرتا ہے جو منظر عام پر آ چکا ہے۔ انہوں نے ترک پارلیمان میں پیش کیے جانے والے معاہدے کے متن کی بھی توثیق کی۔
معاہدے کی توثیق کا طریقہ ہر ملک میں مختلف ہے
سجاد حیدر خان کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے لیے ہر ملک کا اپنا طریقہ کار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے حوالے سے کسی خفیہ شق یا نکات کی موجودگی نہیں ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی دفعات کا مقصد متعلقہ ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ کسی تیسرے ملک کے خلاف کارروائی کرنا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون اور معاہدے کی تفصیلات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ترجمان نے معاہدے کے مسودے سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ سامنے آنے والے متن کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
مکہ معاہدے پر غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹس مسترد، وزارت اطلاعات کا اہم بیان
بھارت سے متعلق سوال پر کیا کہا؟
بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے الزام عائد کیا کہ فالس فلیگ آپریشن بھارت کی روایت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسے کسی بھی ممکنہ آپریشن کے حوالے سے تیار ہے۔
فالس فلیگ آپریشن سے مراد ایسی کارروائی ہے جس کی ذمہ داری کسی دوسرے فریق پر ڈالنے کی کوشش کی جائے۔ تاہم ترجمان کے بیان میں کسی مخصوص ممکنہ کارروائی یا اس سے متعلق شواہد کی تفصیل نہیں دی گئی۔
پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ترجمان کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ معاہدے میں کوئی خفیہ نکات نہیں اور اس کا مقصد مشترکہ دفاع ہے۔ معاہدے کی توثیق کے طریقہ کار میں دونوں ممالک سمیت متعلقہ ریاستوں کے اپنے قانونی مراحل شامل ہیں۔
