ملتان میں یتیم لڑکے کی ہلاکت کا کیس، ملزم کی سی سی ڈی منتقلی پر اہم انکشافات

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے کی ہلاکت کے مقدمے میں گرفتار ملزم توقیر نذیر کو سی سی ڈی بہاولپور منتقل کرنے کے معاملے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پولیس حکام اور ذرائع کے بیانات میں مقدمے کی منتقلی کے حوالے سے مختلف پہلو سامنے آئے ہیں، جبکہ سی سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ آرڈیننس کے تحت مقدمات کو محکمے کے سپرد کرنے کا اختیار موجود ہے۔

latest urdu news

ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے کی ہلاکت کے مقدمے میں گرفتار ملزم توقیر نذیر کی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) بہاولپور منتقلی کا معاملہ زیر بحث ہے۔ اس حوالے سے یہ سوالات سامنے آئے ہیں کہ ملزم کو کس قانونی اختیار کے تحت منتقل کیا گیا، منتقلی کی درخواست کس نے دی اور اس فیصلے کے پس منظر میں کیا عوامل کارفرما تھے۔

ذرائع کے مطابق، اس معاملے پر ملتان میں رات کے وقت ایک اجلاس بھی ہوا تھا، جس میں سی سی ڈی افسران نے مقدمے کی نوعیت اور ملزم کے سابقہ ریکارڈ سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا۔

اجلاس میں سی سی ڈی افسران کا کیا مؤقف تھا؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملتان میں ہونے والی میٹنگ کے دوران سی سی ڈی افسران نے مؤقف اختیار کیا کہ توقیر نذیر کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں اور زیر بحث مقدمہ ہائی پروفائل کیس کے زمرے میں بھی نہیں آتا۔

اس مؤقف کے بعد ملزم کی سی سی ڈی بہاولپور منتقلی کے معاملے پر مزید سوالات اٹھے۔ تاہم، ذرائع کی جانب سے بیان کردہ اس مؤقف کی مزید تفصیلات یا اجلاس میں شریک تمام افسران کی آرا سامنے نہیں آئیں۔

اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ مقدمے کو سی سی ڈی کے حوالے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس فیصلے کے لیے کن قانونی و انتظامی بنیادوں کو مدنظر رکھا گیا۔

لاہور سے اعلیٰ افسر کی مداخلت کا دعویٰ

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بعد ازاں لاہور میں تعینات سی سی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر کی مداخلت کے بعد معاملہ آگے بڑھا۔

تاہم، دستیاب معلومات میں اس افسر کا نام یا مداخلت کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔ اس لیے اس دعوے کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

دوسری جانب، سی پی او ملتان اختر فاروق نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ سی سی ڈی کی درخواست پر منتقل کیا گیا تھا۔

ملتان میں خوفناک حادثہ، تیز رفتار کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی، 5 افراد جاں بحق

اس بیان کے بعد معاملے میں دو اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف ذرائع اعلیٰ افسر کی مداخلت کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف سی پی او ملتان نے منتقلی کو سی سی ڈی کی درخواست سے منسوب کیا ہے۔

سی سی ڈی کو مقدمات منتقل کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے، حکام

ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی طاہر مجید نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 17 مختلف نوعیت کے سنگین جرائم سی سی ڈی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

ان کے مطابق، محکمے کے لیے طے شدہ معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) کے تحت فی الحال 6 سے 7 نوعیت کے جرائم پر کام کیا جا رہا ہے۔

طاہر مجید کا کہنا تھا کہ متعلقہ آرڈیننس میں مقدمات سی سی ڈی کو منتقل کرنے کا اختیار موجود ہے۔ ان کے بیان کے مطابق، مقدمات کی منتقلی کے لیے قانونی گنجائش موجود ہے، تاہم کسی مخصوص مقدمے کی منتقلی کی وجوہات اور طریقہ کار کا تعین متعلقہ ریکارڈ کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے۔

ملزم کی منتقلی کے معاملے میں اہم سوالات

ملتان کے اس مقدمے میں ملزم کی سی سی ڈی بہاولپور منتقلی کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آنے کے بعد قانونی اختیار، درخواست اور انتظامی فیصلے کی بنیاد اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

اب اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ سی سی ڈی کی جانب سے مقدمہ منتقل کرنے کی درخواست کب اور کن وجوہات کی بنا پر دی گئی، متعلقہ حکام نے اس پر کیا فیصلہ کیا اور منتقلی کے لیے کن قانونی دفعات کا سہارا لیا گیا۔

تاحال سامنے آنے والی معلومات میں ان سوالات کے تمام جوابات موجود نہیں ہیں۔ اسی طرح، ذرائع کی جانب سے بیان کردہ اعلیٰ افسر کی مداخلت کے دعوے کی بھی مزید تصدیق درکار ہے۔

15 سالہ یتیم لڑکے کی ہلاکت کا مقدمہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے حساس ہے۔ ایسے معاملات میں ضروری ہے کہ تفتیش شفاف انداز میں آگے بڑھے، قانونی تقاضوں کی پابندی کی جائے اور تمام متعلقہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں