دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کے لیے خدمات انجام دینے والے اوئن فائلر 107 برس کے ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل زندگی کا کوئی خفیہ نسخہ نہیں، بلکہ محنت اور اچھے طریقے سے زندگی گزارنا ہی ان کے نزدیک اس کا بنیادی راز ہے۔
برطانیہ کے علاقے ویلز سے تعلق رکھنے والے اوئن فائلر نے اپنی طویل عمر کے حوالے سے دلچسپ باتیں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زندگی بھر محنت کرتے رہے اور انہوں نے ہمیشہ بہتر انداز میں زندگی گزارنے کی کوشش کی۔ 1919 میں پیدا ہونے والے اوئن فائلر نے 16 اکتوبر کو اپنی 107ویں سالگرہ منائی۔
ان کی زندگی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی پسندیدہ غذا فش اینڈ چپس بھی شوق سے کھاتے ہیں۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ وہ کھانے میں اعتدال کا خیال رکھتے ہیں اور کبھی ضرورت سے زیادہ نہیں کھاتے۔
فش اینڈ چپس کھانے کے شوقین ہیں اوئن فائلر
اوئن فائلر کے مطابق وہ جب دل چاہے فش اینڈ چپس کھاتے ہیں، لیکن اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کھانے کی مقدار بہت زیادہ نہ ہو۔ فش اینڈ چپس برطانیہ کی معروف روایتی غذاؤں میں شمار ہوتی ہے، جس میں عموماً مچھلی کو تل کر آلو کے چپس کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
تاہم، اوئن فائلر اپنی طویل عمر کا سہرا صرف اپنی پسندیدہ غذا کو نہیں دیتے۔ ان کے بقول، لمبی زندگی گزارنے کے لیے کسی خاص یا خفیہ نسخے کی ضرورت نہیں، بلکہ زندگی کو اچھے طریقے سے گزارنا زیادہ اہم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ وہ اتنی طویل عمر تک کیسے پہنچے۔ ان کے مطابق، بہت سے لوگ ان سے ملتے ہیں اور حیرت سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے اتنی لمبی زندگی کیسے گزاری۔
اوئن فائلر کا کہنا ہے کہ وہ انہیں یہی جواب دیتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی خفیہ ترکیب نہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کام کیا اور بہتر انداز میں زندگی گزارنے کی کوشش کی۔
چار بچوں کے والد اور وسیع خاندان کے سربراہ
اوئن فائلر کا خاندانی پس منظر بھی ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ وہ چار بچوں کے والد ہیں، جبکہ ان کے خاندان میں 10 پوتے پوتیاں یا نواسے نواسیاں اور 15 پڑپوتے پڑپوتیاں یا پرنواسے پرنواسیاں شامل ہیں۔
96 سالہ خاتون کی 18 سالہ نوجوان سے شادی، عمر کا 78 سالہ فرق توجہ کا مرکز بن گیا
اتنی طویل عمر پانے کے باوجود اوئن فائلر نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ 107 برس کی عمر تک پہنچ سکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے زندگی میں کبھی اس عمر تک پہنچنے کی توقع نہیں کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ بچپن میں بڑھاپے کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا، کیونکہ اس دور میں زندگی کے دوسرے مسائل زیادہ اہم تھے۔
مشکل بچپن اور زندگی کی جدوجہد
اوئن فائلر کے مطابق، ان کے بچپن کا زمانہ مشکلات سے بھرپور تھا۔ اس وقت ان کے خاندان کو کھانے پینے کی اشیا اور پیسوں کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دور میں کئی مرتبہ کھانے کے لیے مناسب چیزیں دستیاب نہیں ہوتی تھیں اور مالی وسائل بھی محدود تھے۔ ایسے حالات میں زندگی گزارنا آسان نہیں تھا۔
اوئن فائلر کی کہانی اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ طویل زندگی کا تجربہ ہر شخص کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے محنت، اعتدال اور اچھے طرز زندگی کو اپنی زندگی کا اہم حصہ قرار دیا ہے، تاہم صرف ان کی مثال کی بنیاد پر لمبی عمر کا کوئی ایک حتمی نسخہ متعین نہیں کیا جا سکتا۔
ان کی زندگی کا سفر ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے مشکل حالات دیکھے، دوسری جنگ عظیم کے دور میں برطانیہ کے لیے خدمات انجام دیں اور اب اپنی زندگی کی 107 بہاریں دیکھ چکا ہے۔
