15 سالہ وسیم عباس کیس کا مرکزی ملزم توقیر نذیر مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی سے کچلنے کے مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم توقیر نذیر مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ محکمہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مطابق ملزم بہاولپور کے قریب پولیس کی کارروائی کے دوران اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے مارا گیا، جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

latest urdu news

پولیس حکام کے مطابق توقیر نذیر کو وسیم عباس کی ہلاکت کے بعد گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں سے اسے چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔ تاہم، دورانِ ریمانڈ ملزم فرار ہوگیا تھا۔

بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلہ کیسے پیش آیا؟

ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی عرفان اکبر کے مطابق پولیس نے بہاولپور کے ناردرن بائی پاس پر دو موٹر سائیکل سواروں کو روکنے کی کوشش کی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کے روکنے پر ملزمان نے فرار ہوتے ہوئے فائرنگ کی۔

عرفان اکبر کے مطابق فائرنگ کے دوران توقیر نذیر اپنے ہی ساتھی کی گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا، جبکہ دوسرا ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔ فرار ہونے والے ملزم کی گرفتاری کے لیے مزید کارروائی سے متعلق تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

واضح رہے کہ توقیر نذیر کی عدالت میں پیشی کے دوران وکلا کی جانب سے اسے تشدد کا نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

وسیم عباس کو گاڑی سے کچلنے کا واقعہ کیا تھا؟

مظفر گڑھ کے گاؤں موضع دولت پور سے تعلق رکھنے والا 15 سالہ وسیم عباس ملتان کے ایک نجی یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا۔ سی پی او ملتان اختر فاروق کے مطابق بچے کو یتیم خانے سے تقریباً سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق توقیر نذیر مختلف عمارتوں میں بجلی کی تنصیب کے ٹھیکے لیتا تھا اور اس سے قبل بھی یتیم خانے کے بچے اس کے پاس کام سیکھنے کے لیے آتے رہے تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق وسیم کام چھوڑ کر واپس جانا چاہتا تھا۔ اسی معاملے پر اس کی ٹھیکیدار سے تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد اس نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔

وسیم عباس کا خون اور ہماری اجتماعی بے حسی، معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ

سی سی ٹی وی فوٹیج میں کیا سامنے آیا؟

واقعے کے بعد سامنے آنے والی مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز میں وسیم کو بھاگتے اور گاڑی کو اس کا تعاقب کرتے دیکھا گیا۔ ایک ویڈیو میں گاڑی کو بچے کی طرف بڑھتے اور اسے کچلتے ہوئے دکھایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

پولیس نے واقعے کے بعد توقیر نذیر کو گرفتار کرکے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔ تاہم، ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد اب کیس کی آئندہ قانونی کارروائی، دستیاب شواہد اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کی تحقیقات اہم ہوں گی۔

بچوں کے تحفظ اور انصاف سے متعلق سوالات

وسیم عباس کی ہلاکت نے بچوں کو ہنر سکھانے کے نام پر کام کی جگہوں پر بھیجنے، یتیم خانوں کی نگرانی اور بچوں کے تحفظ کے انتظامات سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے تھے۔ اس واقعے میں ملزم کی گرفتاری، دورانِ ریمانڈ فرار ہونے اور بعد ازاں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے تمام پہلوؤں کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

ملزم کی ہلاکت کے باوجود واقعے سے متعلق شواہد، پولیس کارروائی اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا اہم ہے، تاکہ وسیم عباس کو انصاف دلانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں