پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواستوں پر اٹارنی جنرل کے دفتر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی۔
بیرسٹر گوہر کی گورنر راج اور ایمرجنسی معطل کرنے کی استدعا
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے عدالت سے استدعا کی کہ صوبے میں نافذ کی گئی ایمرجنسی اور گورنر راج کو معطل کیا جائے۔
بیرسٹر گوہر نے اپنے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں ایک ہی روز ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا، جبکہ اسی دن ایڈوائزری کونسل بھی تشکیل دی گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران 38 ڈپٹی کمشنرز کے تبادلے کیے گئے، جبکہ پی ٹی آئی کے 12 ارکان قومی اسمبلی اور 13 ارکان صوبائی اسمبلی کو بھی اٹھایا گیا۔
سلمان اکرم راجہ کے قانونی نکات
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی۔
دہشتگردی کا بہانہ بنا کر گورنر راج لگایا گیا، ہم ریاست کے ساتھ ہیں: بیرسٹر گوہر
درخواست گزاروں کی جانب سے ان اقدامات کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے گئے اور عدالت سے استدعا کی گئی کہ معاملے کا جائزہ لے کر مناسب حکم جاری کیا جائے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کے دفتر سے جواب طلب کرلیا
سماعت کے اختتام پر پشاور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کے دفتر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواستوں پر جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی۔
اب آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت کا مؤقف سامنے آنے کے بعد گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قانونی نکات پر مزید کارروائی متوقع ہے۔ فی الحال عدالت کی جانب سے درخواست گزاروں کی گورنر راج اور ایمرجنسی معطل کرنے کی استدعا پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
