دہشتگردی کا بہانہ بنا کر گورنر راج لگایا گیا، ہم ریاست کے ساتھ ہیں: بیرسٹر گوہر

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم ان کے بقول دہشتگردی کو جواز بنا کر خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ انہوں نے سیاسی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے خلاف کارروائیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

latest urdu news

دہشتگردی ناسور ہے، اسے ختم ہونا چاہیے: بیرسٹر گوہر

پشاور ہائیکورٹ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشتگردی ایک ناسور ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر کوئی دو رائے نہیں اور پی ٹی آئی پرامن ہے، جبکہ دہشتگردی کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک ہی روز گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے 12 ارکان قومی اسمبلی اور 13 ارکان صوبائی اسمبلی کو اٹھایا گیا، پارٹی دفاتر گرائے گئے اور ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تختیاں بھی توڑی گئیں۔

بیرسٹر گوہر نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت سے عوامی مینڈیٹ چھینا گیا ہے اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

سیاسی جماعتوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا الزام

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ایک گروہ پی ٹی آئی اور دوسری سیاسی جماعتوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ان کی جماعت متحد ہے اور سیاسی قوتوں کے درمیان اختلافات بڑھانے والے اقدامات سے معاشرے میں نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کو اس انداز میں حل کرنا درست نہیں اور اس سے مزید تلخی پیدا ہو سکتی ہے۔

بیرسٹر گوہر کا عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے لاتعلقی کا اظہار، پی ٹی آئی نے بھی ملکیت تسلیم نہ کی

مذاکرات سے متعلق کیا کہا؟

عدالت میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر مذاکرات ہونے ہوتے تو اب تک ہو چکے ہوتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہشتگردی کو بنیاد بنا کر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بھی دہشتگردی کے واقعات پیش آتے ہیں، اس لیے خیبرپختونخوا میں کیے گئے اقدامات پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے وفاق کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔

وزیراعلیٰ کی گرفتاری اور پارٹی قیادت کی رہائی کا مطالبہ

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوں نے پارٹی قیادت کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے علیمہ خان کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا کہ انہیں کیوں حراست میں لیا گیا، جبکہ ان کے بقول وہ غیرسیاسی ہیں۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستوں پر عدالتی کارروائی جاری ہے۔ بیرسٹر گوہر کے الزامات اور مؤقف پی ٹی آئی کی جانب سے سامنے آئے ہیں، جبکہ فراہم کردہ رپورٹ میں متعلقہ حکومتی حکام کا تفصیلی ردعمل شامل نہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں