امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کو امیگریشن پالیسیوں سے جوڑتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر تنقید کی ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے میکرون کو کئی سال پہلے ہی فرانس کی سرحدیں بند کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم ان پر عمل نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ کا پیرس کے مستقبل سے متعلق بیان
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ دنیا بھر سے لوگوں کو فرانس آنے کی اجازت دینا ایک بڑی غلطی ہے۔
ٹرمپ کے بقول، انہوں نے میکرون سے کہا تھا کہ فرانس کو اپنی سرحدیں بند کر دینی چاہئیں۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ پیرس بہت جلد مسلمانوں کا شہر بننے جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ میکرون کو کئی برس سے جانتے ہیں اور جب ان کی پہلی ملاقات ہوئی تھی، تب بھی انہوں نے فرانسیسی صدر کو امیگریشن پالیسیوں کے ممکنہ نتائج سے خبردار کیا تھا۔
فرانس میں پرتشدد مظاہروں پر ٹرمپ کا مؤقف
ٹرمپ نے فرانس میں حالیہ بدامنی کا ذمہ دار امیگریشن کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورت حال اسکولوں یا دیگر مسائل کے بجائے تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے فرانسیسی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کرے۔
امریکی صدر اس سے قبل بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر فرانس کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے تارکین وطن کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے فرانسیسی حکومت سے فوری طور پر سرحدیں بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
فرانس میں پرتشدد مظاہرے، بعض علاقوں میں جزوی کرفیو نافذ کرنے کا اعلان
تاہم، فرانس میں ہونے والے مظاہروں کے اسباب اور ان میں شریک افراد کے پس منظر کو صرف امیگریشن سے جوڑنا ٹرمپ کا مؤقف ہے۔ احتجاج کے دوران مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں، تعلیمی مسائل اور عوامی خدمات سے متعلق شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
فرانس میں بدامنی اور حکومتی اقدامات
رپورٹ کے مطابق فرانس میں حالیہ پرتشدد واقعات کے دوران ایک شخص ہلاک اور سیکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ بڑی تعداد میں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
بدامنی اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد فرانسیسی حکام نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ ٹرمپ نے ان واقعات کو فرانس کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کے لیے استعمال کرتے ہوئے میکرون پر زور دیا ہے کہ وہ سرحدی کنٹرول سخت کریں۔
فرانسیسی حکومت کی جانب سے ان مخصوص بیانات پر ردعمل کی تفصیلات فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔
