محمود اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس میں ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم محمود اچکزئی نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک عہدہ نہیں چھوڑیں گے جب تک انہیں نامزد کرنے والے بانی پی ٹی آئی خود ایسا کرنے کا نہیں کہتے۔

latest urdu news

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس ہفتے کی شام شروع ہوا اور آدھی رات تک جاری رہا۔ اس اجلاس میں محمود اچکزئی کے عہدے سے متعلق معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ تاہم ان کی جانب سے سامنے آنے والے مؤقف کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ وہ فی الحال مستعفی ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

بانی پی ٹی آئی کے فیصلے سے مشروط استعفیٰ

رپورٹ کے مطابق محمود خان اچکزئی نے اتوار کی شب اپنی تحریکِ بحالیِ آئین کے اجلاس کے بعد قریبی ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اڈیالہ جیل میں قید وہ شخصیت، جس نے انہیں قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کیا تھا، عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرے گی تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔

ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے استعفے کو بانی پی ٹی آئی کے فیصلے سے مشروط کیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے اندر اس معاملے پر اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم پارٹی کی جانب سے اس مطالبے اور اس کی وجوہات کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

محمود اچکزئی قائدِ حزبِ اختلاف کیسے بنے؟

محمود خان اچکزئی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں، جس کا مرکز کوئٹہ میں ہے۔ رواں سال جنوری میں قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے انہیں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے انہیں اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔ ان کی تقرری سے قبل اسناد اور اہلیت سے متعلق معاملہ طویل عرصے تک زیرِ بحث رہا، جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے تقرری کا فیصلہ کیا۔

اپوزیشن اتحاد نے حکومت سے پہلا رابطہ کر لیا، محمود اچکزئی اور رانا ثناء کی ملاقات

محمود اچکزئی کی جماعت کی قومی اسمبلی میں محدود نمائندگی ہے، جبکہ ان کی نامزدگی کو پی ٹی آئی کی حمایت حاصل رہی۔ اس پس منظر میں ان کے عہدے سے متعلق حالیہ اختلاف سیاسی حلقوں میں اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

لانگ مارچ میں عدم شرکت اور پی ٹی آئی کے اندر اختلافات

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ محمود اچکزئی گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں اور لانگ مارچ میں شریک نہیں ہوئے۔ اس دوران پی ٹی آئی سے وابستہ آزاد ارکانِ قومی اسمبلی کے درمیان مارچ کے انعقاد اور اس کی منزل کے حوالے سے اختلافات کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ذرائع کے مطابق پارٹی سے وابستہ ارکان کے درمیان حکمتِ عملی پر اتفاقِ رائے نہیں تھا۔ تاہم ان اختلافات کی مکمل تفصیلات اور محمود اچکزئی سے استعفے کے مطالبے کے ساتھ ان کا براہِ راست تعلق واضح نہیں کیا گیا۔

محمود اچکزئی کے تازہ مؤقف کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس معاملے پر کیا فیصلہ کرتی ہے اور آیا بانی پی ٹی آئی کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کے لیے کوئی باضابطہ ہدایت جاری کی جاتی ہے یا نہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں