وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے لیے نئی کیبل روٹس پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی، آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کی توسیع اور فائیو جی سروسز کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں 3 نئی سب میرین انٹرنیٹ کیبلز کی تنصیب
ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے بتایا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پاکستان میں 3 نئی سب میرین انٹرنیٹ کیبلز لینڈ کی گئیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق، جی ایس ایم اے کی رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے صنفی ڈیجیٹل فرق کم کرنے کے حوالے سے تیز رفتار پیشرفت کا اعتراف کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئی کیبل روٹس پر کام کر رہی ہے، جبکہ وزیراعظم کی زیر صدارت ہر 15 روز بعد قومی کنیکٹیویٹی پلان پر پیشرفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھا دی گئی
شزہ فاطمہ نے بتایا کہ یونیورسل سروس فنڈ کے تحت پاکستان میں 17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھائی جا چکی ہے، جبکہ فائبر براڈبینڈ کے لیے دستیاب ہوم پاسز کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کی توسیع سے ان علاقوں میں بھی تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے جہاں ڈیجیٹل سہولیات محدود ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی کیبل روٹس میں اضافے سے ملک کی عالمی انٹرنیٹ نیٹ ورکس سے رابطے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ملک بھر میں ایک ہفتے تک انٹرنیٹ سروس سست ہونے کا امکان
موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن 60 فیصد تک بڑھانے کا ہدف
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان میں موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن کی شرح 19 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اسے بڑھا کر 60 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
موبائل ٹاورز کو آپٹیکل فائبر سے منسلک کرنا فائیو جی نیٹ ورک کی ترقی کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس سے زیادہ ڈیٹا کی ترسیل اور تیز رفتار کنیکٹیویٹی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔
شزہ فاطمہ نے بتایا کہ مارچ 2026 میں 480 میگاہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے ذریعے پاکستان میں فائیو جی متعارف کرائی گئی۔ ان کے مطابق فائیو جی سروسز کی مؤثر فراہمی کے لیے موبائل ٹاورز کو آپٹیکل فائبر نیٹ ورک سے جوڑنا ضروری ہے۔
ایک کروڑ سے زائد افراد نے ٹیکنالوجی کے ذریعے ایندھن سبسڈی حاصل کی
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد نے ٹیکنالوجی کے ذریعے ایندھن کی سبسڈی حاصل کی۔ ان کے مطابق اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اسمارٹ فون رکھنے کی شرط نہیں رکھی گئی۔
حکومت کی جانب سے ان اقدامات کو ڈیجیٹل سہولیات کی توسیع اور ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی بین الاقوامی کیبل روٹس، آپٹیکل فائبر نیٹ ورک اور موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن کے منصوبوں کی پیشرفت پاکستان میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے مستقبل کے لیے اہم ہوگی۔
