پی ٹی آئی خیبر پختونخوا حکومت بچانے اور عمران خان کیلئے ریلیف حاصل کرنے کا موقع گنوا بیٹھی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو بڑے سیاسی دھچکے کا سامنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، پارٹی وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں حتمی معاہدہ کرنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں نہ صرف صوبائی حکومت برقرار رکھنے کا ممکنہ موقع ہاتھ سے نکل گیا بلکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے زیرِ بحث ممکنہ رعایتیں بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکیں۔

latest urdu news

پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، مذاکرات کے دوران عمران خان سے ملاقات، ان کی بہنوں کی رہائی، سابق وزیراعظم سے ملاقاتوں کا معمول بحال کرنے اور ڈاکٹروں کی سفارش پر ان کے ہسپتال میں علاج کے انتظامات جیسے معاملات پر پیش رفت کے امکانات موجود تھے۔

عمران خان کیلئے کن ممکنہ رعایتوں پر بات ہو رہی تھی؟

رپورٹ کے مطابق، مذاکرات میں عمران خان تک رسائی اور ان کے خاندان سے متعلق معاملات اہمیت رکھتے تھے۔ ان میں عمران خان سے ملاقات کا انتظام، ان کی بہنوں کی رہائی اور طبی معائنے کے بعد ضرورت پڑنے پر ہسپتال منتقل کرنے جیسے امور شامل تھے۔

تاہم، مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے اور زیرِ بحث امکانات پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ناکامی کے باعث پی ٹی آئی وفاقی حکومت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت برقرار رکھنے کا موقع بھی کھو بیٹھی۔

محمود اچکزئی اور سہیل آفریدی کے کردار پر سوالات

رپورٹ میں بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے محمود اچکزئی اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، لانگ مارچ ختم کرنے کے مطالبے پر اتفاق سے قبل عمران خان سے ملاقات کی شرط پر اصرار مذاکرات میں رکاوٹ بنا۔ اگرچہ عمران خان تک رسائی پی ٹی آئی کے اہم مطالبات میں شامل تھی، تاہم اسے پیشگی شرط بنانے سے فوری سمجھوتے کی کوششیں پیچیدہ ہو گئیں۔

اسی طرح سہیل آفریدی کے سخت سیاسی مؤقف اور وفاقی حکومت کے ساتھ محاذ آرائی نے بھی کشیدگی میں اضافے میں کردار ادا کیا۔ تاہم، یہ تجزیہ رپورٹ میں شامل ذرائع اور سیاسی حلقوں کی آرا پر مبنی ہے، اسے مذاکرات کی ناکامی کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر اختلاف بھی بڑی رکاوٹ

وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے درمیان انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر اختلاف بھی تنازع کا اہم نکتہ رہا۔

وفاقی حکومت اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے صوبائی انتظامیہ پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مناسب تعاون نہ کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے، جبکہ سہیل آفریدی وفاقی حکومت کے بعض اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے صوبائی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق، سیاسی کشیدگی کے دوران یہ اختلافات مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ بنے۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ اگر فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا تو پی ٹی آئی عمران خان اور ان کے خاندان سے متعلق معاملات پر پیش رفت حاصل کرنے کے ساتھ صوبائی حکومت پر اپنا کنٹرول بھی برقرار رکھ سکتی تھی۔

صوابی میں پی ٹی آئی کے 56 کارکن گرفتار، اسکول بھی بند رکھنے کا اعلان

خیبر پختونخوا میں اقتدار سے محرومی کے سیاسی اثرات

وفاقی سطح پر اقتدار سے باہر ہونے کے بعد خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کی سیاسی طاقت اور تنظیمی موجودگی کا اہم مرکز رہا ہے۔ صوبائی حکومت سے محرومی پارٹی کے لیے اس لیے بھی بڑا دھچکا سمجھی جا رہی ہے کہ عمران خان کی رہائی اور ان کے لیے قانونی و طبی سہولتوں کا حصول پی ٹی آئی کی سیاست کے مرکزی مطالبات میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی نے پارٹی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بحث بھی سامنے آئی ہے کہ اگر مذاکرات میں شرائط اور ترتیب کے معاملے پر زیادہ لچک دکھائی جاتی تو کیا مختلف نتائج حاصل کیے جا سکتے تھے؟

تاہم، یہ واضح نہیں کہ مذاکرات میں زیرِ بحث تمام ممکنہ رعایتوں پر باقاعدہ اتفاق ہو چکا تھا یا نہیں۔ اس لیے انہیں طے شدہ مراعات کے بجائے ممکنہ پیش رفت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

مجموعی طور پر، رپورٹ کے مطابق، مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچنے کے باعث پی ٹی آئی نہ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی اور نہ ہی عمران خان کے لیے زیرِ بحث ممکنہ رعایتیں حاصل کر سکی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں