آئی ایم ایف کا فیول اسکیم محدود کرنے کا مطالبہ، صرف مستحقین کو ریلیف دینے پر زور

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی جائزے کے بعد جاری اعلامیے میں توانائی اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے فیول سپورٹ اسکیم کو وسیع پیمانے پر جاری رکھنے کے بجائے صرف مستحق افراد تک محدود رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

latest urdu news

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے معاشی اہداف کے حصول کے لیے اہم کوششیں کی ہیں اور جاری پروگرام کے تحت معاشی استحکام اور اصلاحات کے عمل میں پیش رفت ہوئی ہے۔ اسٹاف لیول معاہدے کے بعد پاکستان کو تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی مالی معاونت ملنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے مشروط ہے۔

آئی ایم ایف نے فیول اسکیم کے بارے میں کیا کہا؟

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے اگر فیول سپورٹ فراہم کی جائے تو اسے وسیع پیمانے پر دینے کے بجائے محدود، ہدفی اور مخصوص مدت کے لیے رکھا جائے۔

آئی ایم ایف نے زور دیا کہ فیول سبسڈی کو مزید وسعت نہیں دی جانی چاہیے اور ایسے ریلیف کا فائدہ صرف ان افراد تک پہنچنا چاہیے جو واقعی اس کے مستحق ہیں۔

فنڈ کے پروگرام دستاویزات میں بھی پاکستان کی جانب سے نئی فیول سبسڈی یا کراس سبسڈی اسکیم متعارف نہ کرانے کی پابندی کا ذکر موجود ہے۔

پاکستان کی معاشی کارکردگی پر آئی ایم ایف کا مؤقف

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے پروگرام کے تحت معاشی اہداف کے حصول کے لیے بہترین کوششیں کیں۔ فنڈ کا کہنا ہے کہ پروگرام کے نتیجے میں ملک میں معاشی استحکام آیا جبکہ مختلف شعبوں میں اصلاحات کے عمل کو بھی آگے بڑھایا گیا۔

اعلامیے کے مطابق جولائی تا مارچ 2026 کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح تقریباً 4 فیصد رہی، تاہم مشرق وسطیٰ کے بحران کے اثرات کے باعث شرح نمو کے اندازے میں کمی آئی۔ اسی دوران افراط زر میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر نے کرنٹ اکاؤنٹ کو دباؤ سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر زور

آئی ایم ایف نے پاکستان پر توانائی کے شعبے میں اصلاحات تیز کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق توانائی کے شعبے میں واجبات کی وصولی بہتر بنانا اور نقصانات کم کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ توانائی کے شعبے پر مالی دباؤ کو کم کیا جاسکے۔

فنڈ نے گیس سیکٹر میں بھی وصولیوں کو بہتر بنانے اور نقصانات کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق توانائی کے شعبے میں بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور لاگت کم کرنے والی اصلاحات پاکستان کے لیے ناگزیر ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی پالیسی اور زرمبادلہ ذخائر

آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مناسب حد تک سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔

ساتھ ہی پاکستان کو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ بیرونی مالی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر ہو اور معیشت کو عالمی سطح پر پیدا ہونے والے ممکنہ جھٹکوں سے زیادہ تحفظ حاصل ہوسکے۔

ریلیف کا دائرہ محدود رکھنے پر زور

آئی ایم ایف کی ہدایات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت کو صارفین کے لیے ریلیف دینا پڑے تو اس کا دائرہ غیر ضروری طور پر وسیع نہ کیا جائے۔

فنڈ کے مطابق فیول سپورٹ کو ہدفی، محدود اور عارضی رکھا جانا چاہیے تاکہ حکومتی مالی وسائل پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے اور سبسڈی کا فائدہ ان طبقات تک پہنچے جنہیں واقعی اس کی ضرورت ہے۔

یوں پاکستان کے لیے موجودہ اقتصادی پروگرام میں ایک طرف معاشی استحکام اور اصلاحات کا عمل جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب وسیع پیمانے پر سبسڈی دینے کے بجائے محدود اور ہدفی ریلیف کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں