لبنان جنگ بندی میں شامل نہیں، ایران پر پابندیاں کم کرنے پر بات ممکن: جے ڈی وینس

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی نائب صدر JD Vance نے کہا ہے کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے جبکہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔

latest urdu news

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے امریکہ نے اہم کردار ادا کیا ہے اور ایران کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات اسی ہفتے شروع ہونے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ لبنان پر حملے کسی بھی مرحلے پر جنگ بندی کا حصہ نہیں تھے اور یہ معاہدہ صرف ایران سے متعلق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور زمینی حقائق کے مطابق اب بات چیت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے حصول کے لیے امریکہ نے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا جس میں Marco Rubio سمیت دیگر حکام شامل تھے، اور سب نے مؤثر کردار ادا کیا۔

امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی قائم کیے ہیں۔

جنگ بندی قومی قربانیوں اور عوامی اتحاد کا نتیجہ، مسعود پزشکیان

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے لبنان میں اپنی کارروائیوں پر نظرثانی کی پیشکش کی ہے جبکہ اب اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔ جے ڈی وینس کے مطابق اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو Donald Trump کے پاس دوبارہ جنگ کی طرف جانے کے تمام آپشنز موجود ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مذاکرات میں غیر سنجیدگی دکھائی یا سودے بازی کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter