CIA سمیت امریکی خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ Iran کے آدھے سے زیادہ میزائل لانچر اب بھی محفوظ ہیں، جبکہ امریکا اور Israel کی بمباری میں صرف تقریباً 50 فیصد لانچرز ہی تباہ کیے جا سکے ہیں۔
CNN کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ہزاروں خودکش ڈرونز موجود ہیں، جو اس کی جنگی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ انٹیلی جنس رپورٹ امریکی حکومت کے اس دعوے سے متصادم ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کی 90 فیصد میزائل اور ڈرون صلاحیت ختم کر دی گئی ہے۔
اس صورتحال نے Donald Trump اور امریکی محکمہ دفاع کے دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق ایران کی باقی ماندہ صلاحیت خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھ سکتی ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کو برطرف کردیا
دوسری جانب ایرانی فوج کے گراؤنڈ فورسز کے کمانڈر Ali Jahanshahi نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی افواج کئی برسوں سے اس قسم کی جنگ کے لیے تیاری کر رہی ہیں اور ملک میں داخل ہونے والی کسی بھی دشمن قوت کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ جاری کشیدگی کے باوجود ایران کی عسکری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، جس سے خطے میں تنازع مزید طول پکڑ سکتا ہے۔
