واشنگٹن: Donald Trump نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات اور معاہدے کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اور اگر تہران نے سنجیدگی نہ دکھائی تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر بیان جاری کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار غیر معمولی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایران بظاہر مذاکرات کی خواہش رکھتا ہے لیکن عوامی سطح پر امریکی تجاویز کو صرف دیکھنے کا تاثر دے رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو جلد فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ تاخیر کی صورت میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وقت نکل گیا تو جو کچھ ہوگا وہ ایران کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔
ٹرمپ : ایران نےتحفے کے طور پر آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز گزارے
واشنگٹن میں اپنی جماعت Republican Party کے فنڈ ریزنگ ایونٹ سے خطاب میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت دباؤ اور خوف کا شکار ہے، یہاں تک کہ کوئی بھی سپریم لیڈر بننے کو تیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران درحقیقت امریکہ سے رابطہ کرنا اور جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران فوری ڈیل چاہتا ہے لیکن اندرونی حالات کے باعث کھل کر بات نہیں کر پا رہا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی کامیابیاں بے مثال رہی ہیں۔
ایک اور بیان میں ٹرمپ نے NATO کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے میں نیٹو نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو نیٹو کی ضرورت نہیں، تاہم وہ اس صورتحال کو یاد رکھے گا۔
کابینہ ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزید خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو ایران پر مزید سخت حملے کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو جوہری عزائم ترک کرکے معاہدہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر یہ تنازع ایران کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے۔
