بلاول بھٹو سرکاری طیارہ استعمال کرسکتے ہیں تو پنجاب حکومت بھی بااختیار ہے: عظمیٰ بخاری

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی حکومت کی جانب سے نیا سرکاری طیارہ خریدنے کا معاملہ زیر بحث آیا تو ایوان میں گرما گرم جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔ وقفۂ سوالات کے دوران محکمۂ اطلاعات سے متعلق امور پر بات چیت جاری تھی کہ اپوزیشن کی جانب سے طیارے کی خریداری پر سخت سوالات اٹھا دیے گئے جس سے ماحول کشیدہ ہو گیا۔

latest urdu news

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ عابد نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعلیٰ پنجاب اربوں روپے مالیت کے نئے طیارے پر راجن پور کا دورہ کریں گی؟ اس پر صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر بلاول بھٹوسندھ حکومت کے جہاز پر سفر کر سکتے ہیں تو یہ پنجاب حکومت کا طیارہ ہے اور اسے استعمال کرنے کا اختیار بھی حکومت کو حاصل ہے۔

اپوزیشن لیڈر محسن ریاض قریشی نے استفسار کیا کہ طیارہ کس مد میں خریدا گیا اور اس کی حقیقی ضرورت کیا تھی۔ اپوزیشن اراکین نے احتجاجاً کاغذی جہاز بنا کر ایوان میں لہرائے اور خریداری کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس موقع پر اسپیکر نے ریمارکس دیے کہ اگر انہیں جواب دینا ہوتا تو وہ طیارے کی خریداری کا دفاع کرتے، تاہم یہ ان کی ذمہ داری نہیں۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے Imran Khan کی صحت اور قید سے متعلق بھی بات کی گئی، جس پر حکومتی اراکین نے جوابی تنقید کی۔

کے پی میں رمضان پیکج کا اعلان تاخیر کا شکار، عظمیٰ بخاری کی تنقید

حکومتی رکن احسن رضا کی جانب سے سخت الفاظ کے استعمال پر ایوان میں شور شرابا بڑھ گیا۔ اسپیکر نے غیر پارلیمانی الفاظ حذف کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی سیاسی قائد کے خلاف نامناسب زبان استعمال نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے لیے نیا طیارہ خریدنے کی خبریں سامنے آئی تھیں، جس کی مالیت تقریباً دس سے گیارہ ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔ اپوزیشن اس فیصلے کو غیر ضروری قرار دے رہی ہے جبکہ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ انتظامی ضروریات کے تحت کیا گیا اقدام ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter