امریکا کی اعلیٰ ترین عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد بھارت نے واشنگٹن کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نئی صورتِ حال میں پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت کے پیش نظر نئی دہلی نے اپنا مجوزہ تجارتی وفد امریکا بھیجنے کا پروگرام مؤخر کر دیا ہے۔ یہ وفد دو طرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے واشنگٹن روانہ ہونے والا تھا۔
اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے صدرٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ بعض محصولات کو کالعدم قرار دیا، جس کے نتیجے میں امریکی تجارتی پالیسی کے مستقبل پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ عدالتی فیصلے کے فوراً بعد پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں اور نرخوں کے تعین سے متعلق ابہام پیدا ہوا، جس نے بھارت سمیت کئی تجارتی شراکت داروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی روابط دونوں ممالک کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، تاہم موجودہ غیر یقینی حالات میں کسی بھی طویل المدتی معاہدے کو حتمی شکل دینا مناسب نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق دونوں ملکوں کے عہدیداروں کے درمیان مشاورت کے بعد یہ طے پایا کہ مذاکرات کو عارضی طور پر روک دیا جائے، جبکہ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا کہ تمام ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر عارضی طور پر 15 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ اس اقدام نے عالمی تجارتی فضا میں مزید بے یقینی پیدا کر دی ہے اور متعدد ممالک نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات کی تصدیق، جمعے کو اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی
مجوزہ عبوری تجارتی معاہدے کے تحت امریکا چند بھارتی مصنوعات پر محصولات میں نرمی دینے پر آمادہ تھا۔ اس کے بدلے بھارت آئندہ پانچ برسوں میں توانائی، دفاعی سازوسامان، طیاروں، قیمتی دھاتوں اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق امریکی مصنوعات کی بڑی مقدار خریدنے پر رضامند تھا۔ تاہم تازہ عدالتی اور پالیسی پیش رفت کے باعث یہ پیش رفت فی الحال تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔
بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بدلتی ہوئی امریکی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے معاہدے پر ازسرِ نو غور کرے اور قومی مفاد کو ترجیح دے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کی سفارتی سرگرمیاں اس تعطل کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
