کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے سندھ کی موجودہ سیاسی صورتِ حال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایک "مصنوعی اکثریت” رکھنے والی جماعت نے قبضہ جما رکھا ہے اور حالیہ اقدامات آئینی تقاضوں سے متصادم ہیں۔
سندھ اسمبلی کی قرارداد پر اعتراض
خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں آئین کے خلاف ایک قرارداد پیش کی گئی، جسے ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی نے "خوف کے سائے” میں منظور کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک صوبہ خود کو آئینِ پاکستان سے بالاتر سمجھ رہا ہو۔
یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا جب سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کوششوں کو وفاقی ڈھانچے کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے قرارداد منظور کی۔ اس معاملے نے صوبائی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
نمائندگی اور اکثریت کا سوال
ایم کیو ایم کے چیئرمین نے سیاسی نمائندگی کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ کیسا انصاف ہے کہ 170 نشستیں لینے والا جیل میں ہے اور 80 نشستیں لینے والا حکومت میں؟” تاہم انہوں نے کسی مخصوص جماعت کا نام نہیں لیا۔
ان کے مطابق سندھ میں ایک ایسی جماعت برسرِ اقتدار ہے جس کی اکثریت حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ہے، اور یہی جماعت صوبے پر قابض ہے۔
سندھ حکومت کی نیت ٹھیک، مگر کچھ کمی رہ گئی: شرجیل میمن
آئینی نکات اور بلدیاتی اختیارات
خالد مقبول صدیقی نے آئین کے مختلف آرٹیکلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 239 نئے صوبوں کی تشکیل کی اجازت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا لازم ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بلدیاتی نظام کو مکمل اختیارات نہ دینا آئینی تقاضوں کے برعکس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 6 ریفرنڈم کی بھی اجازت دیتی ہے، اور اگر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو ان کی جماعت دوبارہ توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرنے پر غور کرے گی۔
سندھ کی کثیراللسانی حیثیت اور مکالمے کی ضرورت
چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ سندھ پاکستان کا سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ ہے اور شہری علاقوں کے ساتھ گزشتہ پچاس برس سے ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کسی بھی مسئلے کا حل مکالمے میں دیکھتی ہے اور امن کے ساتھ رہنے کی خواہش رکھتی ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی موجودگی میں "سندھو دیش” کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔
نتیجہ
خالد مقبول صدیقی کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ کی سیاست ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک جانب صوبائی خودمختاری اور وفاقی ڈھانچے کے تحفظ کا سوال ہے، تو دوسری جانب بلدیاتی اختیارات اور شہری نمائندگی کا معاملہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا سیاسی جماعتیں مکالمے کے ذریعے اس کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔
