سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے گزشتہ رات افغانستان کے مختلف صوبوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر فضائی کارروائیاں کیں، جن میں مبینہ طور پر کالعدم تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد مراکز تباہ اور درجنوں شدت پسندوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
کن صوبوں میں کارروائیاں کی گئیں؟
ذرائع کے مطابق یہ ائیر اسٹرائیکس افغانستان کے تین صوبوں — ننگرہار، پکتیکا اور خوست — میں کی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور مبینہ طور پر فتنہ الخوارج سے وابستہ عناصر کے مراکز موجود تھے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر سات مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر منتخب کیا گیا تھا۔
تباہ کیے گئے مراکز کی تفصیل
ذرائع کے مطابق جن مراکز کو نشانہ بنایا گیا ان میں ننگرہار کے دو نئے مراکز، خوست میں ایک مرکز اور پکتیکا میں قائم دو اہم ٹھکانے شامل تھے۔ اس کے علاوہ بعض مراکز مخصوص افراد کے نام سے منسوب بتائے گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں 80 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے، تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
پاکستان کی افغانستان میں دہشتگرد ٹھکانوں پر کارروائیاں، 7 مراکز کو نشانہ بنایا گیا
پس منظر: سرحدی سلامتی اور سکیورٹی خدشات
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں سلامتی کی صورتحال گزشتہ چند برسوں سے حساس رہی ہے۔ پاکستانی حکام متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے عناصر سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ دوسری جانب افغان عبوری حکومت کی جانب سے اس نوعیت کے الزامات پر مختلف مواقع پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ سرحد پار فضائی کارروائیاں علاقائی سطح پر سفارتی اور سکیورٹی تناظر میں اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ ان کے اثرات دو طرفہ تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
سرکاری ردعمل اور آئندہ صورتحال
تاحال ان کارروائیوں پر افغانستان کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے آنے کی اطلاعات محدود ہیں۔ تاہم ماضی میں اس نوعیت کے واقعات پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے اور بیانات دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ کارروائیاں خطے میں جاری سکیورٹی چیلنجز کی عکاسی کرتی ہیں۔ آئندہ دنوں میں اس پیش رفت کے سیاسی اور سفارتی اثرات پر نظر رکھنا اہم ہوگا، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی آزادانہ تصدیق بھی صورتحال کو واضح کرنے میں مدد دے گی۔
