تعارفسپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائیکورٹ کے اس حکم کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے جس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا کہا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ شناختی کارڈ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق میں شامل ہے اور اسے بلاک کرنا شہری کے بنیادی حق کو چھیننے کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ کا موقف
جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا:
"شناختی کارڈ کوئی لگژری یا اضافی سہولت نہیں بلکہ عام زندگی گزارنے کے لیے ایک ضروری دستاویز ہے۔ کیا مستقبل میں عدالتیں رقم کی واپسی کے لیے بجلی یا پانی کے کنکشن کاٹنے کا بھی حکم دیں گی؟”
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ضابطہ دیوانی کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔
سندھ ہائیکورٹ کے حکم کی قانونی حیثیت
عدالت نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کی سی پی سی میں ترمیم کا اطلاق صوبہ سندھ پر نہیں ہوتا، اور قانون میں واضح حکم کے بغیر کوئی بھی عدالت شہری کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کر سکتی۔ اس فیصلے سے یہ واضح ہوا کہ صوبوں میں عدالتی اختیارات کے دائرہ کار اور قانونی حدود کا احترام ضروری ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ جانے کا دعویٰ
مقدمے کا پس منظر
یہ معاملہ 2016 سے چل رہا ہے، جب ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف رقم کی ادائیگی کی ڈگری جاری کی تھی۔ رقم کی عدم ادائیگی پر ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا، جسے سندھ ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی ہے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے یہ پیغام جاتا ہے کہ عدالتی اختیارات کا استعمال ہمیشہ قانونی دائرہ میں ہونا چاہیے، اور شہریوں کے بنیادی حقوق جیسے شناختی کارڈ کی دستیابی پر کسی بھی غیر قانونی پابندی برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ فیصلہ مستقبل میں عدالتی عملدرآمد کے طریقوں اور شہری حقوق کے درمیان توازن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
