ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حال ہی میں واضح کیا ہے کہ جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے، تاہم اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچا جا سکا تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں سامنے آیا، جس میں انہوں نے خطے میں ممکنہ پیچیدگیوں اور ایران کی دفاعی حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی۔
جوہری مذاکرات کی تازہ صورتحال
عباس عراقچی نے کہا کہ دو سے تین روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا جائے گا، اور اس کے بعد منظوری ملنے پر یہ دستاویز امریکی خصوصی ایلچی کے حوالے کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ایران نے جوہری افزودگی روکنے کی پیشکش نہیں کی اور نہ ہی امریکا نے اس کا کوئی مطالبہ کیا۔ دونوں ممالک کے مذاکرات کار تیز رفتار معاہدے پر کام کر رہے ہیں تاکہ مسئلہ سفارتی طور پر حل کیا جا سکے۔
دفاعی تیاری اور خبردار پیغام
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات ناکام رہتے ہیں، تو ایران اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا: "ہم سفارت کاری اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں۔ اگر امریکا حملہ کرتا ہے تو یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی، اور امریکی کارروائی نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔”
ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات کی تصدیق، جمعے کو اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی
ایران کا موقف اور عالمی تناظر
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر اور کانگریس کے اراکین کو بھی پیغام دیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف تقریباً ہر حربہ آزما چکا ہے، جیسے جنگ، پابندیاں یا اسنیپ بیک، لیکن کوئی بھی حربہ کامیاب نہیں ہوا۔
عباس عراقچی نے زور دیا کہ: "اگر ایرانی عوام سے احترام کی زبان میں بات کی جائے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے، اور اگر طاقت کی زبان استعمال کی گئی تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وہ ایران پر محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں عراقچی کے بیانات خطے میں ممکنہ کشیدگی، جوہری معاہدے کی ضرورت اور ایران کی دفاعی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہیں۔
