انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج کیس میں علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 23 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج، امجد علی شاہ، کی سربراہی میں سماعت ہوئی، جس میں علیمہ خان کی آج کی ایک روزہ حاضری معافی منظور کی گئی اور مقدمے کی سماعت 23 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ابتدائی طور پر پیشی کی تاریخ 23 فروری مقرر تھی، بعد میں 20 فروری کر دی گئی، لیکن علیمہ خان کو اس تبدیلی کا علم نہیں تھا، جس کی بنا پر وہ پیش نہیں ہو پائیں۔
عدالت نے علیمہ خان کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا
عدالت نے کیس کی کارروائی کے دوران آخری دونوں گواہان، جو تفتیشی افسران ہیں، کو بھی طلب کر لیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ان گواہان پر جرح مکمل کی جائے تاکہ مقدمے کی کارروائی حتمی مرحلے میں پہنچ سکے۔ اس کے علاوہ، 26 نومبر کے احتجاج کیس کے دیگر تمام ملزمان کے لیے بھی طلبی نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
پراسیکیوٹر کے مطابق اس مقدمے میں 16 گواہان کے بیانات پر جرح مکمل ہو چکی ہے اور صرف آخری دو گواہان باقی ہیں۔ تفتیشی افسران پر جرح مکمل ہونے کے بعد حکومت کیس کی حتمی کارروائی مکمل کرے گی۔
عدالت نے اس پیش رفت کے بعد علیمہ خان کو عدالت کے مقرر کردہ نئے شیڈول کے مطابق پیش ہونے کا پابند بنایا۔ عدالت کے فیصلے کا مقصد مقدمے کی شفاف، منظم اور بروقت کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ اس کیس میں دیگر ملزمان کے بیانات اور گواہان کی جرح مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
26 نومبر کے احتجاج سے متعلق یہ مقدمہ گزشتہ سال سے زیر سماعت ہے اور اس میں متعدد افراد شامل ہیں۔ عدالتی کارروائی مسلسل جاری ہے اور آئندہ سماعت میں آخری گواہان پر جرح مکمل ہونے کے بعد مقدمہ فیصلہ کی جانب بڑھے گا۔
